خصوصی شمارہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۵
حال میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ میں نے جبرئیل سے کہا کہ اگر چہ اس نے چوری کی، اگرچہ اس نے زنا کیا....انہوں نے کہا کہ ہاں، اگرچہ اس نے شراب پیا)
اس حدیث کے بارے میں مکتوب نگار کی منفی رائے بھی صرف غلط فہمی پر مبنی ہے۔ انہوں نے غالباً اس کا مطلب یہ سمجھ لیا کہ مومن خواہ مخواہ چوری کرتا رہے، زنا کرتا رہے، شراب پیتا رہے، پھر بھی وہ جنت میں جائے گا۔ حالانکہ حدیث کا یہ مطلب نہیں۔ حدیث کا یہ مفہوم لینا اس وقت درست ہوتا جب کہ اس میں یسرق اور یزنی اور یشرب کے الفاظ ہوتے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کے بجائے حدیث میں وإن سرق و إن زنی و إن شرب کے الفاظ ہیں۔ یعنی حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک شخص اگر استمراری طور پر سرقہ زنا اور شراب نوشی جیسے افعال میں مبتلا ہو تب بھی وہ جنت میں داخل ہوگا۔ بلکہ حدیث میں ماضی کا صیغہ ہے۔ یعنی ماضی میں یا اتفاقاً اس سے یہ افعال ہو گئے تھے، پھر اس نے توبہ کر کے پاکیزہ زندگی اختیار کرلی تو وہ جنت میں جائے گا۔ اس حدیث میں فعل اتفاقی کا ذکر ہے نہ کہ فعل جاری کا۔ اس حدیث میں عین وہی بات کہی گئی ہے جو صحیح مسلم اور دوسری کتابوں میں مختلف الفاظ میں آئی ہے۔ اصل یہ ہے کہ دور اول میں جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا ان میں کئی لوگ ایسے تھے جن سے ماضی میں ایسے افعال سرزد ہوئے تھے جو شریعت اسلامی کے خلاف تھے۔ ان کو اپنی ماضی کی اس غلطی کا شدید احساس ہو تا تھا۔ چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ آپ نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسلام پچھلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے (الاسلام يهدم ما كان قبله)۔ سوال میں ۱۹۹۱ سے الرسالہ کا مستقل قاری ہوں۔ الرسالہ کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ انسان کو ایک مخصوص خول سے نکال کر ایک وسیع النظر انسان بناتا ہے۔ الرسالہ پڑھنے کی وجہ سے میں اب ہر مکتب فکر کو پڑھنے لگا ہوں۔ میرے اندر جو ذہنی بزدلی تھی وہ الرسالہ کے پڑھنے سے دور
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues