Al-Risala · July 2001 · page 11

نفاذ احکام میں تدریج

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۱۱

نائجیریا، بنگلہ دیش، وغیرہ وغیرہ۔ مگر بے شمار قربانیوں کے باوجود کسی بھی مسلم ملک میں اب تک شرعی قوانین کا نفاذ عمل میں نہ آسکا۔

اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں طول آمد (الحدید ۱۶) کے نتیجہ میں ضعف ایمان پیدا ہو چکا تھا۔ ان کے اندر وہ ذہنی موافقت اور قلبی آمادگی باقی نہیں رہی تھی جو شرعی احکام کو عملی طور پر قبول کرنے کے لئے لازمی طور پر ضروری ہے۔ ان کا حال مذکورہ روایت کے مطابق، یہ ہو گیا تھا کہ جب ان کو خمر اور زنا کے احکام کا مخاطب بنایا جائے تو وہ کہہ دیں کہ: لاندع الخمر ابداً و لاندع الزنا ابداً۔

مثال کے طور پر اکثر مسلم ملکوں میں پر جوش مسلم رہنماؤں نے یہ کیا کہ میڈیا کو اسلامائز کرنے کے لئے ٹی وی کے نظام پر قبضہ کیا اور پھر اس کے ذریعہ ’’اسلامی پروگرام‘‘ دکھانا شروع کر دیا۔ لیکن وہ عملاً مکمل طور پر بے فائدہ رہا۔ کیوں کہ مسلم گھروں میں ٹی وی سیٹ پر جب یہ اسلامی پروگرام آتے تو گھر والے اس کو دیکھتے ہی نہ تھے۔ وہ اس وقت ٹی وی سیٹ کی سوئی گھما کر دوسرا کوئی تفریحی پروگرام دیکھنے لگتے۔

نفاذ شریعت کی ہنگامہ خیز کوششوں کے باوجود اس کی مکمل ناکامی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں میں اجتہادی فکر موجود نہ تھی۔ وہ صرف تقلیدی فکر کا سرمایہ لے کر میدان سیاست میں کود پڑے۔ اس قسم کے تقلیدی فکر کا انجام وہی ہو سکتا تھا جو عملاً پیش آیا۔ میدان عمل کی تبدیلی صحیح البخاری میں حضرت ابو ہریرہ کے حوالہ سے ایک روایت ان الفاظ میں نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أمرتُ بقرية تأكل القرى، يقولون: يثرب، وهي المدینہ (فتح الباری ۴ / ۱۰۴) یعنی مجھے ایک بستی کی طرف ہجرت) کا حکم دیا گیا ہے، وہ بستیوں کو کھائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے۔

امام بخاری نے یہ حدیث اپنی صحیح میں کتاب فضائل المدینہ (باب فضل المدينة و أنها

‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues

Printed page