نفاذ احکام میں تدریج
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۱۲
تنفی الناس) کے تحت درج کی ہے۔ اب بعد کے لوگ اگر اس کو تقلیدی ذہن کے تحت دیکھیں تو وہ اس سے صرف فضائل مدینہ کا مسئلہ نکالیں گے، چنانچہ حدیث کے شارحین نے اس روایت کے تحت زیادہ تر اسی قسم کی بحثیں کی ہیں۔ مثلا اکثر شارحین حدیث اس کے حوالے سے یہ کہتے ہیں کہ مدینہ کو یثرب کہنا مکروہ ہے اس کو صرف مدینہ یا مدینہ منورہ کہنا چاہئے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن میں مدینہ کے لئے یثرب کا لفظ استعمال ہوا ہے (الاحزاب ۱۳) اس قرآنی استعمال سے مذکورہ تاویل پر زد پڑتی ہے۔ چنانچہ اس کی توجیہہ محض ذاتی قیاس کے تحت یہ کر لی گئی کہ وہ صرف غیر مسلموں کے قول کی حکایت ہے (فتح الباری ۲/ ۱۰۵)۔ لیکن اگر تقلید اسلاف سے آگے بڑھ کر اس حدیث پر مجتہدانہ انداز سے غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی طریق کار کا ایک اہم اصول بیان کیا ہے۔ اس اصول کو ایک لفظ میں، میدان عمل کی تبدیلی کہا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب مکہ میں اہل اسلام کے لئے احوال سخت ہو گئے تو اللہ نے حکم دیا کہ تم مکہ سے نقل مکانی کر کے عرب کے دوسرے شہر یثرب چلے جاؤ۔ وہاں تم کو مکہ کے مقابلہ میں موافق حالات ملیں گے، یہاں تک کہ وہ اسلام کا مرکز بن جائے گا اور لوگ اس کو یثرب کے بجائے مدینۃ الرسول یا مدینۃ الاسلام کہنے لگیں گے۔
موجودہ دنیا میں عملی کامیابی کا یہ ایک نہایت قیمتی اصول ہے۔ اس اصول کو ہجرت کہا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مقام پر تم کو موافق حالات نہ مل رہے ہوں تو تم وہاں سے نکل کر دوسرے مقام پر چلے جاؤ۔ ٹکراؤ کے طریقہ سے مقصد حاصل نہ ہو رہا ہو تو مفاہمت کے طریقہ سے اپنا مقصد حاصل کرو۔ تشدد کے ذریعے کامیابی نہ مل رہی ہو تو امن کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرو۔
واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اپنے تقلیدی ذہن کی بنا پر اس عظیم حکمت کو دریافت نہ کر سکے۔ اس کے نتیجہ میں انہیں زبردست نقصان اٹھانا پڑا۔ مثلاً وہ مختلف
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues