نفاذ احکام میں تدریج
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۱۳
مقامات پر اسلام کے نام سے پُرتشدد تحریکیں چلا رہے ہیں جس کے نتیجہ میں مسلمان بے شمار جانی اور مالی نقصان سے دوچار ہو رہے ہیں۔ مگر اپنے تقلیدی ذہن کی بنا پر وہ مذکورہ حکمتِ نبوی کو دریافت نہ کر سکے۔ حالاں کہ اگر ان کے اندر اجتہادی ذہن ہو تا تو مذکورہ حدیث میں ان کو اس کا حل معلوم ہو جاتا۔ اس کے بعد وہ پر تشدد طریق کار کو چھوڑ کر پر امن طریق کار کا انداز اختیار کر لیتے اور پھر قانون فطرت کے مطابق، وہ کامیابی کے مرحلے تک پہنچ جاتے۔
مذکورہ مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ تقلیدی فکر کیا ہے اور اجتہادی فکر کیا۔ ایک لفظ میں تقلیدی فکر گویا پہلے زینہ پر رک جانے کا نام ہے۔ اس کے مقابلہ میں اجتہادی فکر اگلے زینوں کو طے کرتے ہوئے اوپر کی منزل تک پہنچ جانا ہے۔ پہلا زینہ اگرچہ ابتدا میں ہوتا ہے مگر اس کی اہمیت یہ ہے کہ اگر پہلا زینہ نہ ہو تو اگلے زینوں کا وجود بھی نہ ہوگا۔ مطالعہ حدیث کے درجات ابتدائی دور کے محدثین کا یہ عظیم کارنامہ ہے کہ انہوں نے حدیثوں کی جمع اور تدوین کا انتہائی مشکل کام انجام دیا۔ یہ گویا مطالعہ حدیث کا ابتدائی درجہ تھا۔ اس کے بعد اگلی نسل کا یہ کام ہے کہ وہ حدیثوں کا جامع انڈکس (Index) تیار کر کے حدیثوں سے علمی استفادہ کو آسان بنا دے۔ اس کے بعد اس معاملہ کا تیسرا درجہ یہ ہے کہ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین کے زمانہ میں احادیث کی جو تشریحات کی گئیں ان کو مرتب کیا جائے تا کہ ان احادیث کو سمجھنے کے لئے ابتدائی بیک گراؤنڈ معلوم ہو سکے۔
اس کے بعد اس معاملہ کا چوتھا درجہ یہ ہے کہ ان احادیث کا مطالعہ زمانی حالات کے پس منظر میں کیا جائے تا کہ ان احادیث کا تو سُعی مفہوم معلوم کیا جا سکے۔ احادیث کے تو سُعی مفہوم سے کیا مراد ہے، اس کے چند نمونے اوپر کی مثالوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح اس معاملہ کا پانچواں درجہ یہ ہو سکتا ہے کہ تمام صحیح احادیث کا مکمل انسائیکلو پیڈیا تیار کیا جائے، تاکہ جدید انسان کے لئے اس کے اپنے مانوس اسلوب میں حدیثوں کا مطالعہ ممکن ہو سکے، وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues