اجتہادی عمل کی اہمیت
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۱۴
حدیث کے مطالعہ کے درجات جو یہاں بتائے گئے، وہ حتمی درجات نہیں ہیں۔ یہ مثالیں صرف اس مسئلہ کو بتانے کے لئے دی گئی ہیں کہ تقلیدی مطالعہ کے مقابلہ میں اجتہادی مطالعہ کہ فرق کیا ہے اور اس سے انسان کو کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔
اجتہادی عمل کی اہمیت
اجتہاد محض ایک ذہنی مشغلہ نہیں، اجتہاد اہل اسلام کی ایک اہم ترین ضرورت ہے۔ اجتہادی عمل کے ذریعہ اہل اسلام ہر زمانہ میں اپنی دینی حیثیت کو از سر نو قائم کرتے رہتے ہیں۔ وہ بدلے ہوئے حالات میں اسلام کو از سر نو منطبق کر کے یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام ایک ابدی مذہب ہے۔ وہ ہر آنے والے زمانہ میں اتناہی مناسب (relevant) ہے جتنا کہ کسی قدیم زمانہ میں۔ گویا کا اجتہاد کا عمل اسلامی فکر کو مسلسل طور پر مطابق وقت (update) بنانے کا ایک ذریعہ ہے۔ اجتہاد کیا ہے؟
اجتہاد سے مراد آزادانہ رائے قائم کرنا نہیں ہے۔ اجتہاد سے مراد یہ ہے کہ قرآن وسنت جو اسلام کے اصل مصادر (sources) ہیں، ان پر غور کر کے قیاسی یا استنباطی طور پر شریعت کے نئے احکام معلوم کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد بھی تقلید ہی کی ایک قسم ہے۔ عام مقلد فقہاء کی تقلید کرتا ہے، اور مجتہد وہ ہے جو خدا اور رسول کی تقلید کرے اور قرآن وحدیث کے نصوص پر غور کر کے براہ راست طور پر احکام کا استنباط کرے۔
اجتہاد سے مراد وہی فکری عمل ہے جس کو قرآن میں استنباط (الننساء ۸۳) کہا گیا ہے۔ فقہاء کی اصطلاح میں اسی کا نام قیاس ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس بات کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ اجتہاد سے مراد بالواسطہ اخذ احکام ہے، جب کہ براہ راست اخذ احکام کی صورت بظاہر موجود نہ ہو۔ استنباط کا لفظ نبط سے ماخوذ ہے۔ نبط کے لفظی معنی ہیں زمین کے اندر سے پانی کا نکلنا۔ استنبط البئر کے معنی ہوتے ہیں کنواں کھود کر اس سے پانی نکالنا۔ اسی سے یہ کہا جاتا ہے کہ "استنبط الفقیہ" یعنی فقیہ نے قرآن وحدیث پر غور کر کے اس کے پوشیدہ معنی کو نکالا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues