فکری المیہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۱۵
مفسر قرطبی نے لکھا ہے : الاستنباط فی اللغۃ، الاستخراج و هو يدل علی الِاجْتِهَادِ اذا عدم النص والاجماع (الجامع لأحکام القرآن، ۲۹۲/۵) یعنی استنباط کے معنی استخراج کے ہیں۔ اس کا مطلب ہے نص اور اجماع کی غیر موجودگی میں اجتہاد کر کے شریعت کا حکم معلوم کرنا۔
فقہاء اسلام نے دوسری صدی ہجری میں اجتہاد کا یہی کام کیا۔ عباسی خلافت کے زمانہ میں کثرت سے نئے مسائل پیدا ہوئے ۔ ان مسائل کا براہ راست یا منصوص جواب بظاہر قرآن وسنت میں موجود نہ تھا۔ اس وقت فقہاء اسلام نے اجتہاد کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کیا۔ انہوں نے قرآن وسنت کے نصوص سے قیاس یا استنباط کے ذریعہ نئے حالات کے لئے شرعی احکام معلوم کئے ۔ اسی اجتہاد کا یہ فائدہ تھا کہ اہل اسلام کے قافلہ نے بدلے ہوئے حالات میں اپنے لئے شرعی رہنمائی پائی ۔ تاریخ میں ان کا سفر کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل جاری رہا۔ مگر دوسری اور تیسری صدی ہجری کے بعد اہل اسلام کے درمیان بعض اسباب سے ایک غلط تصور قائم ہو گیا، وہ یہ کہ قرآن وسنت سے براہ راست طور پر جو اجتہاد یا استنباط کرنا تھا وہ اس ابتدائی دور کے فقہاء نے تکمیلی طور پر انجام دے دیا۔ اب براہ راست نصوص سے احکام اخذ کرنے کی ضرورت نہیں۔ بعد کے مسلمانوں کے لئے کرنے کا جو کام ہے وہ یہ ہے کہ وہ ان فقہاء کی کتابوں کو پڑھیں اور ان پر غور کر کے بعد کے زمانوں کے لئے شرعی احکام معلوم کرتے رہیں۔ اس طرح اسلام کی علمی تاریخ میں عباسی دور کے فقہاء کو مجتہد مطلق کا درجہ مل گیا اور بعد کے دور کے فقہاء کو صرف مجتہد مقید کا۔ دور اول کے فقہاء کا اجتہاد قرآن وسنت پر مبنی ہوتا تھا مگر بعد کے علماء کے لئے اجتہاد کا مطلب صرف یہ رہ گیا کہ وہ دور اول کے فقہاء کے دائرہ میں محدود رہتے ہوئے اپنے لئے شرعی احکام کا تعین کریں۔
فکری المیہ
یہی وہ مقام ہے جہاں سے مسلمانوں کے فکری المیہ کا آغاز ہوتا ہے۔ اس فکری موقف
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues