فکری المیہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۱۶
نے مسلمانوں کو ایک ٹھہرا ہوا قافلہ بنادیا۔ امیر شکیب ارسلان (وفات ۱۹۴۶) نے اپنی کتاب "لماذا تأخر المسلمون و تقدم غيرهم" میں جو بحث چھیڑی تھی، اس کا اصل جواب یہی ہے کہ زمانہ جدید میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کا واحد سبب یہ تھا کہ ان کے درمیان اجتہاد کا عمل رک گیا۔ اجتہاد کوئی اختیاری عمل نہیں، وہ ایک ناگزیر فطری عمل ہے۔ ایسا نہیں کہ اجتہاد خواہ کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد کے عمل کو روکنا گویا فطرت کے عمل کو روکنا ہے، اور فطرت کے عمل کو روکنا صرف اس قیمت پر ہوتا ہے کہ خود کو رکنے والا اپنی ترقی کے سفر کو ختم کردے۔
دریا کی زندگی اس کی روانی میں ہے۔ دریا کے جاری پانی کو اگر روک دیا جائے تو اس کے بعد وہ دریا نہ رہے گا بلکہ وہ ایک متعفن گڑھے میں تبدیل ہو جائے گا۔ اسی طرح کوئی گروہ اگر اپنے درمیان اجتہاد کے عمل کو روک دے تو اس کے اندر ایسا جمود پیدا ہو گا جو اس کے لئے ہر قسم کی ترقی کو نا ممکن بنادے گا، صرف مادی ترقی نہیں بلکہ خود مند ہی اور روحانی ترقی بھی۔ از سر نو غور کرنے کی صلاحیت مقلد انسان، عوامی مقولہ کے مطابق، صرف لکیر کا فقیر ہوتا ہے۔ اس کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ کسی معاملہ کا از سر نو اندازہ (reassessment) کرسکے۔ وہ ایک ہی مانوس ڈگر پر چلتا رہتا ہے، خواہ عملاً وہ سرا سر بے نتیجہ کیوں نہ ہو۔ اس کے بر عکس اجتہادی مزاج رکھنے والا آدمی بار بار معاملات پر نظر ثانی کرتا ہے۔ وہ ماضی اور حال کا مطالعہ کر کے اپنے عمل کا نیا منصوبہ بناتا ہے۔ مقلد انسان اگر ماضی میں ہوتا ہے تو مجتہد انسان اس کے مقابلہ میں مستقبل میں۔ اس کی ایک مثال بر صغیر ہند کے حالات میں ملتی ہے۔ اٹھار ہویں اور انیسویں صدی میں جب ہندوستان میں انگریزیوں کا غلبہ ہوا تو اس زمانہ کے مسلم رہنما صرف ایک ہی بات سوچ سکے۔ اور وہ انگریزوں سے مسلح ٹکراؤ تھا۔ دار الحرب اور جنگ و قتال کے قدیم نظریات کے تحت ان کا جوڑ ہن بناتھا وہ ان کو صرف ایک ہی سبق دیتا تھا اور وہ یہ کہ انگریزوں سے لڑکر ان بیرونی دشمنوں کا خاتمہ کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues