فکری المیہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۱۷
اس مزاج کے تحت ۱۷۹۹ء میں سلطان ٹیپو انگریزوں کی فوجوں سے لڑگئے۔ اگر چہ اس کا نتیجہ صرف یہ نکلا کہ وہ خود بھی ہلاک ہوئے اور ان کی وسیع سلطنت بھی ختم ہو گئی۔ انہیں نظریات کے تحت ۱۸۵۷ء میں مسلم رہنماؤں نے انگریزوں کے خلاف مسلح جنگ چھیڑ دی۔ یہ جنگ مختلف شکلوں میں نصف صدی سے زیادہ لمبی مدت تک جاری رہی۔ اس کا نتیجہ بھی معلوم طور پر مسلم رہنماؤں کی یک طرفہ تباہی کی صورت میں نکلا۔ اس خونیں جنگ کا کوئی بھی فائدہ نہ اسلام کو ملا اور نہ مسلمانوں کو۔
یہ ان لوگوں کی مثال تھی جنہوں نے انگریزوں کے معاملہ کو مقلدانہ نظر سے دیکھا۔ تاہم ٹھیک اسی معاملہ میں مجتہدانہ نظر کی ایک مثال بھی تاریخ میں موجود ہے۔ یہ سید محمد رشید رضا مصری (وفات ۱۹۳۵ء) کی مثال ہے۔ وہ ۱۹۱۲ء (۱۳۳۰ھ) میں مولانا شبلی نعمانی کی دعوت پر لکھنؤ آئے تھے تاکہ دار العلوم ندوۃ العلماء کے اجلاس میں شرکت کر سکیں۔ اس کے بعد وہ دار العلوم دیوبند آئے جو اس وقت گویا انگریزوں کے خلاف تحریک کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس موقع پر دار العلوم دیوبند میں ایک خصوصی جلسہ ہوا۔ دار العلوم کی طرف سے مولانا انور شاہ کشمیری نے تقریر کی۔ اس کے بعد سید محمد رشید رضا نے جلسہ کو خطاب کیا۔ انہوں نے اس موقع پر عربی زبان میں جو تقریر کی، وہ دار العلوم دیوبند کی روداد (۱۳۳۰ھ) میں چھپی ہوئی موجود ہے۔ اس تقریر کا ایک حصہ یہ تھا:
’’اسلام کی اشاعت کا دوسرا حصہ غیر مسلموں سے متعلق ہونا چاہئے۔ ہندوستان میں صدہا قسم کے بت پرست ہیں، یہاں بتوں کو پوجنے والے، درختوں اور پتھروں کے پوجنے والے، چاند، سورج، ستاروں اور نہایت لغویات اور خرافات کو پوجنے والے بھی موجود ہیں۔ پس اگر ہمارے پاس دعاۃ اور مبلغین کی ایک مضبوط جماعت موجود ہو تو ان لوگوں میں اسلام کی اشاعت اس قدر سرعت کے ساتھ ہو گی جو اس وقت ہمارے خیال میں بھی نہیں آسکتی۔ ہمیں عیسائیوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ کامیابی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک خاص بات اور ہے جو ہر ایک دور
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues