Al-Risala · January 2001 · page 36

خصوصی شمارہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۶

ہو گئی۔ ابھی کچھ دن ہوئے میں مرزائیت کے متعلق غلام احمد پرویز کی کتاب پڑھ رہا تھا۔ تو ایک دوست نے کہا کہ غلام احمد پرویز کو تو علماء نے کافر بتایا ہے۔ پھر تم کیوں اس کی کتاب پڑھتے ہو۔ اس معاملہ کی وضاحت فرمائیں۔ (ایک قاری الرسالہ)

جواب

جہاں تک کتاب کا تعلق ہے، میرے نزدیک ہر کتاب کو پڑھنا چاہئے۔ البتہ آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی عقل کو اتنا بیدار رکھے کہ وہ صحیح اور غلط میں فرق کر سکے۔ تکفیر کا موجودہ طریقہ بعد کے زمانہ کی ایک ایجاد ہے۔ وہ اسلام کے مطابق نہیں۔ مصر کے ایک عالم خالد العنبری کی ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام یہ ہے: هزيمة الفكر التکفیری۔ اس کے مصنف نے موجودہ طرزِ تکفیر کو غیر صحیح بتایا ہے۔ اس کتاب کی رد میں سعودی عرب کے ایک عالم الشيخ صالح بن فوزان کا ایک مضمون ریاض کے عربی مجلہ الدعوة (۴ ربیع الاول ۱۴۲۱ ھ۔ ۶ جولائی ۲۰۰۰) میں چھپا ہے۔ شیخ موصوف نے تکفیر کے طریقہ کو درست قرار دیا ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے قرآن وحدیث سے دو حوالے نقل کئے ہیں۔ ایک، منافقین مدینہ کے بارے میں قرآن کا یہ ارشاد کہ: قد کفرتم بعد ایمانکم (التوبہ ۶۶) اسی طرح حدیث سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ: بین العبد و بین الکفر ترك الصلوة۔

شیخ مذکور کا یہ استدلال درست نہیں۔ انہوں نے دو چیزوں میں فرق نہیں کیا۔ اصل یہ ہے کہ مذکورہ آیت یا حدیث عمومی اظہارِ ناراضگی کی مثال ہے نہ کہ شخصی تکفیر کی مثال۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ قرآن میں مدینہ کے جن منافقین کے بارے میں ”کفر“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہ بڑی تعداد میں وہاں موجود تھے۔ مگر اس آیت کے نزول کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افراد کا نام لے کر مشخص انداز میں کبھی ان کی تکفیر نہیں کی۔ اسی طرح حدیث میں ترک صلاۃ کے بارے میں ”کفر“ کا لفظ آیا ہے۔ مگر اس سے مراد مشخص تکفیر نہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر زمانہ میں بہت سے مسلمان ایسے رہے ہیں اور آج بھی ہیں جو نماز کے تارک ہیں مگر علماء اسلام نے کبھی شخصاً مشخص نام لے کر ان کی تکفیر نہیں کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues

Printed page