Al-Risala · July 2001 · page 23

شتم رسول کا مسئلہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۲۳

اس کا عملی نتیجہ کیا نکلے گا۔ اگر حالات پر اہل اسلام کا اتنا کنٹرول نہ ہو کہ وہ قتل کے منفی نتائج کو روک سکیں تو اہل اسلام قتل کا اقدام نہیں کریں گے۔ وہ اس معاملہ کو اللہ کے حوالہ کر دیں گے۔ اس کے برعکس فقہاء کی مثال بتاتی ہے کہ جب کوئی شخص شتم کا فعل کرے تو اس کو فوراً قتل کر دیا جائے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کی نظیر سے اپنے لیے ہدایت نہیں لی۔ ان کی نظر فقہاء کے مسلک پر اٹک کر رہ گئی نہ فقہاء کی پیروی میں متحد ہو کر وہ قتل شاتم کے علم بردار بن گئے۔

اس سوال کا جواب تقلید ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان متفقہ طور پر یہ رائے بنا چکے تھے کہ اب امت کے لیے براہ راست قرآن و سنت سے اجتہاد کا دروازہ بند ہے۔ اب صرف اجتہاد مقید ہی کا دروازہ ان کے لیے کھلا ہوا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اب مسلمان براہ راست قرآن اور سنت سے مسائل اخذ نہیں کر سکتے۔ اب ان کے لیے صرف ایک ہی ممکن صورت ہے، اور وہ یہ کہ وہ فقہاء کے فتووں کو جانیں اور پورے تقلیدی جذبہ کے ساتھ اُس پر قائم ہو جائیں۔ چنانچہ انہوں نے رشدی کے معاملہ میں یہی کیا۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، موجودہ فقہ کی تدوین اس وقت ہوئی جب کہ اہل اسلام کو مکمل اقتدار حاصل تھا۔ ان کو حالات پر اتنا زیادہ کنٹرول تھا کہ کسی قوم کی طرف سے اگر باغیانہ روش کا اندیشہ ہو تا تو خلیفہ صرف دھمکی کا ایک خط لکھتا اور باغی گروہ پست ہمت ہو کر خاموش ہو جاتا۔ اسی قسم کے ایک واقعہ پر عربی شاعر نے یہ پر فخر شعر کہا تھا:۔

إذا ما أرسل الأمراء تجيشاً إلى الأعداء أرسلنا الكتابا مگر موجودہ زمانہ میں حالات بدل چکے تھے۔ اب اہل اسلام کو پہلے کی طرح حالات پر کنٹرول حاصل نہ تھا۔ مزید یہ کہ ان کے لیے بہت سے ناموافق حالات پیدا ہو چکے تھے۔ مثلاً آزادی کا موجودہ زمانہ میں خیر اعلیٰ (summum bonum) کی حیثیت اختیار کر لینا اور اظہار

‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues

Printed page