Al-Risala · July 2001 · page 24

امن کی طاقت

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۲۴

رائے کی آزادی کو مقدس حق کے طور پر مان لیا جانا۔ اسی طرح جدید میڈیا کا ظہور میں آنا جو گویا گرم خبر(hot-news) کی عالمی ایجنسی ہے، وغیرہ۔

انہی نئے حالات کا یہ نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کی عالمی حمایت کے باوجود سلمان رشدی کو قتل کرنا ممکن نہ ہو سکا۔ مزید یہ ناقابل تلافی نقصان ہوا کہ اسلام ساری دنیا میں بدنام ہو گیا۔ جدید انسان کی نظر میں اسلام کی یہ تصویر بن گئی کہ اسلام خدانخواستہ دہشت گردی کا مذہب ہے، وہ اپنے پیروؤں کو مذ ہبی جنون(fanaticism) کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ نتیجہ تھا بدلے ہوئے زمانہ میں حاکمانہ دور کی فقہ کو نافذ کرنے کا۔

سلمان رشدی کے معاملہ میں موجودہ زمانہ کے مسلمان اگر اجتہاد مطلق کا طریقہ اختیار کرتے تو وہ اس معاملہ میں براہ راست قرآن وسنت سے روشنی حاصل کرتے اور پھر انہیں معلوم ہو جاتا کہ اس مسئلہ کا حل قتل کا فتویٰ نہیں ہے بلکہ ردِ عمل سے بچتے ہوئے پرامن دائرہ میں اپنی دعوتی کو شش کرنا ہے۔ مگر چونکہ وہ اپنے مقلد انہ ذہن کی بنا پر دور اقتدار میں بننے والی فقہ کے اندر اٹکے ہوئے تھے اس لیے ان کو وہی حاکمانہ مسئلہ نظر آیا جو فقہ کی ان کتابوں میں لکھا ہوا تھا، یعنی: الشاتم يقتل حداً۔

امن کی طاقت

جدید صنعتی انقلاب کے بعد جب نو آبادیاتی دور آیا اور مغربی قو میں تمام دنیا میں سیاسی اور تہذیبی اعتبار سے غالب آ گئیں تو یہ مسلمانوں کے لیے ایک نیا مسئلہ تھا۔ ساری مسلم دنیا میں کثرت سے مسلم لیڈر پیدا ہوئے۔ ان تمام لیڈروں کا مشترک ذہن یہ تھا کہ: الجهاد هو الحل الوحيد (جہاد ہی واحد حل ہے)۔ مگر تقریبا دو سو سال کی غیر معمولی جد و جہد اور قربانی کے باوجود اس مسلح جہاد کا کوئی مثبت فائدہ مسلمانوں کو نہیں ملا۔

اس مسئلہ پر اگر قرآن و حدیث کی روشنی میں غور کیا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس کا حل پر امن دعوت ہے۔ قرآن میں اسی طرح کی صورت حال میں پیغمبر کو یہ حکم دیا گیا تھا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues

Printed page