امن کی طاقت
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۲۵
کہ تم اللہ کی دی ہوئی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ یہ عمل تمہارے لیے حفاظت کا ضامن ہوگا۔ (المائدہ ۶۷) قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حکمت کے ساتھ دعوت و تبلیغ کا کام کرو، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جو تمہارا دشمن ہے وہ تمہارا دوست بن جائے گا۔ (حم السجدہ ۳۴) یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قرآن اپنی خاموش زبان میں پکار کر یہ کہہ رہا تھا کہ : الدعوة هی الحل الوحيد (دعوت ہی واحد حل ہے)۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ دورِ جدید کے مسلمان قرآن کے اس واضح بیان میں ہدایت نہ پا سکے۔ وہ دعوت کے بجائے جہاد بمعنی قتال) کے میدان میں سرگرم ہو گئے۔ جب کہ حالات کے اعتبار سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ اس قسم کے متشددانہ اقدام کا نتیجہ مزید تباہی کے سوا کچھ اور نکلنے والا نہیں۔
پھر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں سے یہ بھیانک غلطی کیوں ہوئی کہ انہوں نے الجہاد ہو الحل الوحید کا غیر قرآنی نظریہ قائم کر لیا۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ اجتہاد مطلق یعنی قرآن وسنت سے براہِ راست اخذاحکام کواپنے لئے امر ممنوع قرار دے چکے تھے۔ وہ اپنے مقلدانہ ذہن کی بنا پر صرف یہ جانتے تھے کہ موجودہ مدون فقہ سے اپنے لیے احکام حاصل کرتے رہیں۔ اب صورتِ حال یہ تھی کہ فقہ کی یہ کتابیں جہاد و قتال کے احکام سے بھری ہوئی تھیں، ہر فقہی کتاب میں اس کے احکام موجود تھے۔ دوسری طرف فقہ کی ان کتابوں کا حال یہ تھا کہ وہ دعوتِ الی اللہ کے مسائل و احکام سے یکسر خالی تھیں۔ ان میں کتاب الجہاد تو تفصیلی طور پر موجود تھا مگر کتاب الدعوة یا کتاب التبلیغ سرے سے وہاں موجود ہی نہ تھا۔ دعوت کا حکم وہ قرآن میں پاسکتے تھے مگر قرآن کو انہوں نے ماخذ احکام کی حیثیت سے چھوڑ رکھا تھا۔ وہ اخذِ احکام کا ذریعہ صرف فقہ کو سمجھتے تھے، اور کتب فقہ کے صفحات دعوتی رہنمائی سے بالکل خالی تھے۔ اس نئے اندازہ ہو تا ہے کہ اجتہاد، بالفاظ دیگر، قرآن وسنت سے براہِ راست احکام اخذ کرنا کتنا زیادہ مفید ہے اور تقلید، بالفاظ دیگر، مدون فقہ کو احکام اخذ کرنے کا واحد ذریعہ سمجھ لینا، کتنا زیادہ نقصان دہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues