امن کی طاقت
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۲۶
یہی غلطی بر صغیر ہند کے مسلم رہنماؤں سے اس وقت ہوئی جب کہ انگریزوں کے غلبہ کے بعد انہوں نے ہندوستان کے دار الحرب ہونے کا اعلان کیا۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی نے ۱۸۲۳ میں یہ فتویٰ دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے۔ اس کے بعد پانچ سو علماء نے اپنے مشترک دستخطوں سے یہ فتویٰ جاری کیا کہ مسلمانان پر جہاد فرض ہو چکا ہے۔ مسلمانوں ہند کو چاہئے کہ وہ انگریزوں کے خلاف جہاد (قتال) کا آغاز کردیں۔
مسلم رہنماؤں کے ان فتووں اور اپیلوں کے بعد ہندوستان کے مسلمان ایک مذہبی فریضہ سمجھ کر انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد میں مشغول ہوگئے۔ سوسالہ جنگ کے باوجود یہ جہاد عملاً سراسر بے نتیجہ ثابت ہوا۔ مگر عجیب بات ہے کہ آج بھی یہ مسلمان اعلان کے ساتھ یا بلا اعلان یہی سمجھتے ہیں کہ ہندوستان دارالحرب ہے اور انہیں جہاد کے ذریعہ اپنے مسائل کو حل کرنا چاہئے۔
یہ عجیب و غریب صورت حال کیوں ہے، اس کا سبب یقینی طور پر یہی ہے کہ اجتہاد اور تقلید کے بارے میں اپنے مذکورہ مقلدانہ مسلک کی بنیاد پر ان کا ذہن بعد کو مدون ہونے والی فقہ میں اٹکا ہوا ہے۔ اور اس فقہ میں ملکوں کی جو تعریف و تقسیم کی گئی ہے، اس کے مطابق، ہندوستان جیسا ملک دارالحرب ہی قرار پاتا ہے۔
یہ مسلم رہنما اگر فقہ اور فقہاء کے درمیانی دور سے پیچھے جاتے اور قرآن وسنت کی روشنی میں یہ سمجھنے کی کوشش کرتے کہ ہندوستان کی شرعی حیثیت کیا ہے تو یقینی طور پر وہ جان لیتے کہ موجودہ ہندوستان ان کے لیے دار الدعوۃ کی حیثیت رکھتا ہے، جیسا کہ دور اول میں اس قسم کے تمام علاقے اہل اسلام کے لیے دار الدعوۃ کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر اجتہاد (براہ راست قرآن و سنت سے مسئلہ اخذ کرنا) ان کے لیے امر ممنوع بنا ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے مقلدانہ ذہن کی بناپر صرف مدون فقہ پر انحصار کیا۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ مدون فقہ میں صرف دارالحرب کا باب ہے، اس میں دار الدعوۃ کا تصور سرے سے موجود ہی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues