Al-Risala · July 2001 · page 27

موجودہ فقہ کافی نہیں

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۲۷

موجودہ فقہ کافی نہیں

دوسری اور تیسری صدی ہجری میں جو فقہ مدون ہوئی اس کے بارے میں مسلمانوں کا یہ عمومی عقیدہ ہو گیا کہ یہ ایک مکمل فقہ ہے۔ انسانی زندگی سے متعلق قرآن و حدیث کی تمام تعلیمات مفصل اور مکمل طور پر اس میں شامل ہیں۔ یہ عقیدہ اس نظریہ کو حق بجانب ثابت کرتا تھا کہ فقہ کی تدوین کے بعد اب اجتہاد مطلق کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ اب صرف اجتہاد مقید (یا مقلدانہ اجتہاد) کا دروازہ مسلمانوں کے لئے کھلا ہوا ہے۔

یہ عقیدہ قدیم زمانہ میں بظاہر درست تھا مگر جب حالات بدلے، خاص طور پر جب روایتی دور ختم ہوا اور جدید سائنسی دور آیا تو یہ عقیدہ مسلمانوں کے لئے سخت نقصان دہ ثابت ہوا۔ مسلمان اپنے تصور کے مطابق ، فقہ کو مکمل قانونی نظام سمجھ بیٹھے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ انہیں اپنے مسائل کے لئے تدوین فقہ سے باہر دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس بنا پر دور جدید کے مسلمان بہت سی ان قیمتی ہدایات سے محروم ہو گئے جو قرآن و سنت میں تو موجود تھیں مگر مدون فقہ میں ان کو جگہ نہیں ملی تھی۔ چند مثالوں سے اس معاملہ کی وضاحت ہوتی ہے۔

موجودہ زمانہ میں جو سیاسی انقلاب آیا اس کے نتیجہ میں ایک نیا سیاسی نظام پیدا ہوا جس کو جمہوریت (ڈیموکریسی) کہا جاتا ہے۔ ہماری موجودہ فقہ اس سے پہلے بادشاہت کے دور میں بنی۔ اس لئے اس میں جدید جمہوریت کا کوئی تصور شامل نہ تھا۔ چنانچہ مدون فقہ کے ڈھانچہ میں سوچنے والے اس کی اہمیت کو سمجھ نہیں سکے۔ کسی نے اس کو لا دینی نظام قرار دے کر اس کو حرام بتایا۔ کسی نے اس کو صرف "سر شماری" سمجھا اور یہ کہہ کر اس کا مذاق اڑایا:

جمہوریت ایک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت مسلمانوں کے لئے ایک سیاسی نعمت کی حیثیت رکھتی تھی۔ قدیم بادشاہت کے برعکس جمہوریت شرکت اقتدار (power sharing) کے اصول پر مبنی ہے۔ جمہوری نظام مسلمانوں کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ حسن تدبیر سے ہر ملک میں سیاسی نفوذ

‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues

Printed page