خصوصی شمارہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۷
ہیں کہ اپنی طبیعت کے اعتبار سے اس قسم کی دنیوی آسائشوں سے میں آخری حد تک بیزار ہوں۔ مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ مئی۔ جون کے سورج کی گرمی میرے کمرے میں داخل ہو تو اس کے تجربہ سے مجھے نار جہنم یاد آئے اور میں بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ پکار اٹھوں کہ اے میرے رب، مجھے جہنم کی شدید گرمی سے بچا۔ کولر اور اے سی کی مصنوعی ٹھنڈک سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کے مقابلہ میں مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میرے کمرہ کی کھلی کھڑکی سے ہوا کا جھونکا میرے کمرے میں داخل ہو جو مجھے لمس ربانی کے تجربہ سے آشنا کرے ۔ میں اپنی تنہائیوں میں اکثر اس قولِ رسول کو دہراتا ہوں: ہوںاللہم لا عيش الا عيش الآخرة۔ میرا عمل خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کی اس نصیحت پر ہے جو انہوں نے ان الفاظ میں فرمائی تھی: اخشو شنواء (لسان العرب ۱۳/ ۱۴۰) سوال سورہ الاعراف میں یہود کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: واذ تاذن ربك ليبعثن عليهم إلى يوم القيامة من يومهم سوء العذاب إن ربك لسريع العقاب وانه لغفور رحيم (۱۶۷)۔ اس آیت کی تشریح کیا ہے۔ براہ کرم جواب تحریر فرمائیں۔ (سید حلیم، پنچ، سعودی عرب) اس آیت کی مفصل تشریح تذکیر القرآن (جلد اول، صفحه ۴۱۹-۴۱۸) میں ملاحظہ فرمائیں۔ خلاصہ یہ کہ اس آیت سے مراد استمراری عذاب نہیں ہے۔ خود قرآن کے مطابق، ان پر حسنات (الاعراف ۱۶۸) کے وقفے آتے رہیں گے، اور یہود کی تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس آیت کا تعلق جس طرح یہودیوں سے ہے اسی طرح اس کا تعلق مسلمانوں سے ہے۔ وہ یہود کے لئے تہدید ہے اور مسلمانوں کے لئے تنبیہہ ۔ اللہ کا یہ قانون صرف یہود کے لئے نہیں تھا۔ وہ بعد کے اس گروہ کے لئے بھی ہے جس کو یہود کی معزولی کے بعد خدا کی گواہی کے منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ مسلمان اگر اپنے کو اس حال میں پائیں کہ وہ غیر مسلم قوموں کی چیرہ دستی کا شکار ہو رہے ہوں اور ان کی جمعیت چھوٹے چھوٹے جغرافیوں میں بٹ کر متفرق ہو گئی ہو تو ان کو خدا کی طرف لوٹنا چاہئے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ احتساب الہی کی اسی زد میں آگئے ہیں جس میں یہود آئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues