تقلیدی نظر اور اجتہادی نظر کا فرق
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۳۳
طریق کار کی اہمیت کو جانتے تو وہ اپنے ملکوں کو اب تک اسلامی چمنستان بنا چکے ہوتے۔ جیسا سیکولرزم کا عقیدہ رکھنے والوں نے اسی اصول کو استعمال کرتے ہوئے مختلف ملکوں میں انجام دیا ہے، مثال کے طور پر سنگاپور، وغیرہ۔
تقلیدی نظر اور اجتہادی نظر کا فرق
مولاناسید حسین احمد مدنی (وفات ۱۹۵۷ء) نے لکھا ہے کہ___”تاریخ بتاتی ہے کہ ہند میں جب مسلمان آئے تو عام طور سے اہل ہند بودھ مذہب رکھتے تھے اور چھوت چھات تو در کنار بیاہ شادی تک بخوشی کرتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اختلاط نے نہایت قوی تاثیر کی، خاندان کے خاندان مسلمان ہو گئے۔ اس کے بعد جب محمود غزنوی کا زمانہ آیا ہے تو ہندوؤں میں مختلف احوال کی وجہ سے اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ اور شنکر اچاریہ لوگوں کو بدھ مذہب سے نکال کر برہمنی مذہب کو اختیار کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اور پھر برہمنی مذہب سارے ملک میں پھیل جاتا ہے۔ برہمن چونکہ دیکھ رہنے تھے کہ اسلام کا سیلاب اختلاط کی بنا پر ان کے مذہب کو مٹا رہا ہے۔ اس لئے انہوں نے عوام میں نفرت کا پروپیگنڈہ پھیلایا اور مسلمانوں کو ملچھ کاخطاب دیا۔ اکبر نے اس تفریقی خیال اور اس عقیدہ کو جڑ سے اکھاڑنا چاہا۔ اگر اکبر کی جاری کردہ پالیسی جاری رہے پاتی تو ضرور بالضرور برہمنوں کی یہ چال مدفون ہو جاتی۔ اور اسلام کے دلدادہ آج ہندوستان میں اکثریت میں ہوتے۔ اکبر نے عام ہندو ذہنیت اور منافرت کی جڑوں کو کھو کھلا کر دیا تھا۔ اکبر نے (اپنی کم علمی کے باعث) نفس دین اسلام میں بھی کچھ غلطیاں کیں، جن سے مسلم طبقہ میں اس سے بد ظنی ہوئی، اگر چہ بہت سے بد ظنی کرنے والے غافل اور کم سمجھ تھے۔ جیسا کہ معلوم ہے، صلح حدیبیہ ہی فتح مکہ اور فتح عرب کا پیش خیمہ ہے۔ جس روز صلح حدیبیہ تمام کو پہنچی ہے اسی روز انا فتحنا لك فتحاً مبینا کی آیت نازل ہوئی کہ آپس میں اختلاط کا ہونا، نفرت میں کمی آنا، مسلمانوں کے اخلاق اور ان کی تعلیمات کا معاینہ کرنا، دلوں سے ہٹ اور ضد کا اٹھ جانا، یہی امور تھے جنہوں نے قریش کو کھینچ کھینچ کر صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان بناتے ہوئے مکہ سے مدینہ پہنچا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues