Al-Risala · July 2001 · page 34

تقلیدی نظر اور اجتہادی نظر کا فرق

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۳۴

دیا۔ الغرض اختلاط باعث عدم تنا فر ہے اور وہ اقوام کو اسلام کی طرف لانے والا ہے اور تنافر باعث ضد اور عدم اطلاع علی المحاسن ہے۔ اور وہ اسلامی ترقی میں سدراہ ہونے والا ہے۔ چونکہ اسلام تبلیغی مذہب ہے۔ اس لئے اس کا فریضہ ہے کہ جس قدر ہو سکے غیر کو اپنے میں شامل کرے نہ یہ کہ ان کو دور کرے۔ اس لئے اگر ہمسایہ قومیں ہم سے نفرت کریں تو ہم کو ان کے ساتھ نفرت نہ کرنا چاہئے۔ اگر وہ ہم کو نجس اور ملچھ کہیں تو ہم کو انہیں یہ نہ کہنا چاہئے۔ اگر وہ ہم سے چھوت چھات کریں تو ہم کو ان سے ایسا نہ کرنا چاہئے۔ وہ ہم سے ظالمانہ برتاؤ کریں تو ہم کو ان کے ساتھ ظالمانہ اور غیر منصفانہ برتاؤ نہ کرنا چاہئے۔ “ (مکتوبات شیخ الاسلام، حصہ اول، مکتوب نمبر ۶۳، مطبوعہ مکتبہ دینیہ، دیوبند، صفحہ ۱۴۱- ۱۴۲)

مولاناسید حسین احمد مدنی کے اس بیان پر غور کیجئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقلدانہ نظر کس طرح چیزوں کو صرف ان کے ظاہر (face value) پر لیتی ہے، اور مجتہدانہ نظر کس طرح چھپی ہوئی حقیقتوں تک پہنچ جاتی ہے۔ مغل بادشاہ اکبر اگرچہ زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھا مگر وہ بے حد ذہین تھا۔ اس نے اس راز کو سمجھا کہ اسلام اپنی فطری کشش کی بنا پر ہر انسان کو اپیل کرتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان ضد اور نفرت کی فضا نہ پائی جارہی ہو۔ اس نے مزید اس حقیقت کو سمجھا کہ برہمنوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں میں دوری پیدا کر کے اسلام کی اشاعت کو مصنوعی طور پر روک دیا ہے۔ اس دریافت کی بنا پر اکبر نے یہ کیا کہ اس نے کچھ بے ضرر ہندو رسموں کو اپنے دربار میں رائج کر دیا۔ اکبر کی یہ روش ہندو مذہب کو اپنانے کے لئے نہ تھی بلکہ وہ صرف تالیف قلب کے لئے تھی۔ اس کا اصل مقصد اسلام کی اشاعت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔

لیکن اکبر کے کچھ معاصر علماء اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ ان کی نگاہ صرف اکبر کے گیروے کپڑے کو دیکھ سکی۔ اکبر نے جس گہری پالیسی کے تحت وقتی طور پر گیروے کپڑے کو اختیار کیا تھا اس حکمت کو سمجھنے سے وہ قاصر رہے۔ انہوں نے اکبر کے خلاف اتنا طوفان اٹھایا کہ اکبر کا منصوبہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues

Printed page