تنقید اور اجتہاد
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۳۵
اپنی تکمیل تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ اس معاملہ کو غلط رنگ دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستانی تاریخ کا سفر اسلام کی موافقت میں جاری ہونے کے بجائے اسلام کے خلاف جاری ہو گیا۔ مولانا سید حسین احمد مدنی نے اس معاملہ پر جو تبصرہ کیا ہے وہ مجتہدانہ نظر کی ایک واضح مثال ہے۔ وہ اپنی مجتہدانہ بصیرت کی بنا پر اس راز کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ معتدل حالات میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اختلاط ہمیشہ اسلام کی اشاعت کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ چھری اور خربوزہ کے درمیان اگر ٹکراؤ ہو تو جیت ہمیشہ چھری کی ہو گی۔ خواہ چھری کو خربوزہ کے اوپر رکھا گیا ہو یا خربوزہ کے نیچے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ چھری نے بظاہر اپنے آپ کو خربوزہ کے رنگ میں رنگ لیا ہو۔
تنقید اور اجتہاد
تنقید اور تقلید دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جہاں تقلید ہو گی وہاں تنقید نہیں ہو گی۔ اور جہاں تنقید ہو گی وہاں تقلید نہیں ہو گی۔ اجتہاد کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اجتہاد لازمی طور پر تنقید چاہتا ہے۔ جہاں تنقید کا ماحول نہ ہو وہاں کبھی اجتہاد کا عمل جاری نہیں ہو سکتا۔ تاہم تنقید کو تنقید ہونا چاہئے نہ کہ تنقیص۔ تنقید علمی اور منطقی تجزیہ کا نام ہے۔ اس کے برعکس تنقیص کا سارا انحصار عیب جوئی اور الزام تراشی پر ہوتا ہے۔ تنقید اگر تنقیص کی صورت اختیار کر لے تو وہ سب وشتم ہو گا نہ کہ حقیقی معنوں میں تنقید۔
مثال کے طور پر صلیبی جنگوں کے بعد مسیحی پادریوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کتابیں لکھیں۔ انہوں نے عربوں کی تصویر یہ بنائی کہ وہ ایک وحشی قوم ہیں۔ اس کا ایک ثبوت ان کے بیان کے مطابق یہ تھا کہ دوسرے اسلامی خلیفہ عمر فاروق نے جب مصر فتح کیا تو اس وقت وہاں کے شہر اسکندریہ میں ایک بڑا کتب خانہ تھا۔ خلیفہ اسلام کے حکم سے یہ پورا کتب خانہ جلا دیا گیا۔ اس کی تمام قیمتی کتابیں تباہ ہو گئیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues