Al-Risala · July 2001 · page 36

تنقید اور اجتہاد

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۳۶

اس معاملہ میں مسیحی پادریوں کے جواب کی ایک صورت یہ تھی کہ یہ کہا جائے کہ یہ لوگ اسلام کے دشمن ہیں۔ وہ صلیبی جنگوں میں شکست کا بدلہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے سازش کے تحت کتب خانہ جلانے کی یہ کہانی بنائی ہے، وغیرہ۔ اس قسم کی باتیں تنقید نہیں بلکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہ صرف سب وشتم ہیں۔ اس طرح کی باتیں مسیحی پادریوں کے الزام کا علمی جواب نہیں۔ مگر بعد کو بعض اہل علم نے اس معاملہ کی تحقیق کی اور خالص تاریخی شواہد کے ذریعہ یہ ثابت کیا کہ یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے کہ حضرت عمر فاروق کے حکم سے اسکندریہ کا کتب خانہ جلایا گیا۔ اصل یہ ہے کہ اسلامی فتح کے وقت یہ کتب خانہ سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ عربوں نے ۶۴۲ھ میں مصر کو فتح کیا۔

جب کہ اس سے بہت پہلے ۴۸ء میں رومی حاکم جولیس سیزر کے حکم سے اسکندریہ کے اس کتب خانہ کو تباہ کیا جا چکا تھا۔ جواب کا یہ دوسرا طریقہ علمی تنقید کی مثال ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھیے فلپ کے ہٹی کی کتاب ’ہسٹری آف دی عربس‘، صفحہ ۱۶۶)

تنقید کوئی برائی نہیں، تنقید ذہنی ترقی(intellectual development) کا ذریعہ ہے۔ تنقیدی ماحول کے بغیر ذہنی ترقی کا عمل جاری نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں ہمارے لئے جو انتخاب (choice) ہے وہ تنقید اور بے تنقید میں نہیں ہے بلکہ تنقید اور ذہنی جمود میں ہے۔ تنقید کو ختم کرنے کے بعد جو چیز ہمارے حصہ میں آئے گی وہ ذہنی ارتقاء کا خاتمہ ہوگا نہ کہ سادہ طور پر صرف تنقید کا خاتمہ۔

اجتہاد کا عمل بحث و مباحثہ (discussion) کے درمیان جاری ہوتا ہے۔ اجتہاد دراصل معلوم سے نامعلوم تک پہنچنے کا دوسرا نام ہے۔ کچھ باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ کچھ مسائل ہوتے ہیں جن کا جواب ہمیں درکار ہوتا ہے۔ اب اگر کھلے اظہار خیال کا ماحول ہو تو ہر شخص آزادانہ طور پر اپنی رائے کو بیان کرے گا۔ اب افکار کا ٹکراؤ وجود میں آئے گا۔ اس طرح آزادانہ فکری تبادلہ کے دوران معاملہ کے نئے پہلو سامنے آئیں گے۔ اس کے بعد تنقیح کا عمل شروع

‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues

Printed page