Al-Risala · July 2001 · page 37

تنقید اور اجتہاد

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۳۷

ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ تحقیقی رائے سامنے آجائے گی جو ہماری فکری تلاش کا اصل مقصود تھی۔ اسی فکری عمل کا نام اجتہاد ہے۔

نظری اور عملی دونوں پہلوؤں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اجتہاد زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اجتہاد کسی گروہ کے لئے ترقی کا ضامن ہے۔ جس گروہ میں اجتہاد کا عمل رک جائے اس کے درمیان ترقی کا عمل بھی رک جائے گا۔ مگر اجتہاد کے عمل کو درست طور پر جاری ہونے کے لئے تنقید لازمی طور پر ضروری ہے۔ اجتہاد کا فائدہ انہیں لوگوں کو مل سکتا ہے جو تنقید کو گوارا کریں۔ جن لوگوں کے اندر یہ مزاج نہ ہو کہ وہ تنقید کو کھلے طور پر سنیں اور کھلے دل کے ساتھ اس کو قبول کر لیں ان کے حصہ میں کبھی وہ فکری خوش قسمتی نہیں آئے گی جس کو مجتہدانہ رائے قائم کرنا کہا جاتا ہے۔ اس معاملہ کی وضاحت کے لئے یہاں دو متقابل مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ میدان بدر کا انتخاب پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانہ میں ۲ھ میں غزوہ بدر پیش آیا۔ اس وقت آپ مدینہ میں تھے۔ آپ کو خبر ملی کہ قریش کا ایک لشکر مدینہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آپ نے اس کے مقابلہ کے لئے ایک فوج تیار کی اور اس کو لے کر اس رخ پر روانہ ہوئے جدھر سے قریش کا لشکر آرہا تھا۔ بدر سے پہلے ایک مقام پر آپ نے اپنے اصحاب کے ساتھ پڑاؤ ڈالا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر دشمن آگے بڑھتا ہے تو اسی مقام پر اس سے مقابلہ کیا جائے گا۔ اس وقت ایک صحابی خباب بن منذر اٹھے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر کہا کہ اے اللہ کے رسول، یہ جگہ جہاں آپ ٹھہرے ہیں یہ اللہ کے حکم سے ہے یا یہ ایک رائے ہے اور جنگی تدبیر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، یہ ایک رائے ہے اور جنگی تدبیر ہے۔ یہ سن کر صحابی نے کہا: فان هذا ليس بمنزل۔ یعنی پھر یہ تو کوئی پڑاؤ ڈالنے کی جگہ نہیں (سیرت ابن ہشام، الجزء الثانی، صفحه ۲۵۹)۔

یہ واضح طور پر ایک اعتراض کا معاملہ تھا۔ مگر آپ نے اس اعتراض کو برا نہیں مانا بلکہ صحابی سے صرف یہ کہا کہ تمہاری یہ مخالف رائے کیوں ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی رائے کی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues

Printed page