Al-Risala · July 2001 · page 38

تنقید نہ سننے کا نقصان

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۳۸

وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اور دشمن کے درمیان کئی پانی کے کنویں ہیں۔ اگر ہم یہاں ٹھہریں اور دشمن کو آگے بڑھنے کا موقع دیں تو سارے کنویں دشمن کے قبضہ میں آجائیں گے ۔ اس لئے ہمیں یہ کرنا چاہئے کہ ہم یہاں سے چل کر آگے کے مقام پر ٹھہریں اور ان سارے کنووں پر اپنا قبضہ کرلیں۔ اس کے بعد یہ ہوگا کہ ہم پانی پئیں گے اور وہ لوگ پانی نہ پی سکیں گے (فنشرپ ولا يشربون) رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر کہا کہ تم نے بہت اچھی رائے دی (لقد اشرت بالرانی)

یہ پوری گفتگو انتہائی معتدل ماحول میں ہوئی۔ آخر کار رسول اللہ ﷺ نے رائے دینے والے کی رائے کوپسند ید گی کے ساتھ قبول فرمایا اور اس کے مطابق عمل کیا۔ اس کے بعد جو نتیجہ ہوا وہ یہ تھا کہ اہل اسلام کو اس مقابلہ میں فیصلہ کن کامیابی حاصل ہوئی۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی معاملہ میں صحیح رائے تک پہنچنے کے لئے آزادانہ اظہار خیال کا ماحول کتنا زیادہ ضروری ہے، اختلافی رایوں سے کس طرح معاملہ کے نئے گوشے سامنے آتے ہیں جو صحیح رائے تک پہنچنے کے لئے بے حد مددگار ہیں۔ اس معاملہ کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اختلاف رائے اگر بالفرض جارحانہ انداز میں ہو تب بھی اس کو خوش دلی کے ساتھ گوارا کرنا چاہئے۔

تنقید نہ سننے کا نقصان

سید احمد شہید بریلوی نے ۱۸۳۱ء میں مسلمانوں کی ایک فوج کے ساتھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف جہاد کیا۔ یہ واقعہ بالا کوٹ (پنجاب) میں پیش آیا۔ اس جنگ میں سید احمد شہید بریلوی اور ان کے اکثر ساتھی رنجیت سنگھ کی فوجوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ یہ پر جوش جہاد عملی اعتبار سے مکمل ناکامی پر ختم ہوا۔

سید احمد شہید بریلوی کی فوج میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جوان سے بیعت کئے ہوئے تھے۔ انہی میں سے ایک مولانا میر محبوب علی الدہلوی (وفات ۱۲۸۰ھ) تھے۔ وہ اپنے وقت کے ایک

‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues

Printed page