تنقید کا فائدہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۴۶
کتاب اللہ کا علم، سنت رسول کا علم، علماء سلف کے اقوال یعنی ان کے اتفاقات اور اختلافات کا علم، زبان کا علم، اور قیاس واستنباط کا علم (المجتہد من جمع خمسة انواع من العلم علم کتاب الله عز وجل وعلم سنة رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم، واقاويل علماء السلف من اجماعهم واختلافهم وعلم اللغة وعلم القياس)۔
شاہ ولی اللہ دہلوی (اور دوسرے علماء) نے مجتہد کی جو شرطیں لکھی ہیں وہ بجائے خود درست ہیں۔ مگر یہ شرطیں صرف مقید اجتہاد کے لئے کار آمد ہیں، غیر مقید اجتہاد کے لئے یہ شرطیں کافی نہیں۔
اصل یہ ہے کہ اجتہاد کی دو قسمیں ہیں۔ ایک عام اجتہاد اور دوسرا، خاص اجتہاد۔ عام اجتہاد سے مراد وہ اجتہاد ہے جو احوال ظاہری سے تعلق رکھتا ہو۔ اور خاص اجتہاد سے مراد وہ اجتہاد ہے جس کا تعلق احوال باطنی سے ہے۔ یعنی وہ حالات جو اوپری سطح (face value) پر دکھائی نہ دیتے ہوں مگر وہ گہری سطح (under current) میں موجود ہوں۔ ان دونوں کے فرق کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ اجتہاد عام کا تعلق بصارت سے ہے، اور اجتہاد خاص کا تعلق بصیرت سے۔
مثال کے طور پر اگر مجتہد کے سامنے یہ مسئلہ ہو کہ مسح علی الخفین چمڑے کے موزوں پر مسح) کی جو رعایت شریعت میں دی گئی ہے، کیا وہ رعایت موجودہ زمانہ کے صنعتی موزوں پر بھی ہے، تو اس قسم کے اجتہاد کے لئے مذکورہ ۵ علوم کی واقفیت کافی ہے۔ اسی طرح اگر یہ سوال ہو کہ انجکشن کی سوئی جسم میں داخل ہونے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں تو اس مسئلہ کا حکم معلوم کرنے کے لئے بھی مذکورہ پانچ علوم میں واقفیت کافی ہو سکتی ہے۔ ایسا آدمی اپنے اس علم کی بنیاد پر قدیم فقہی ذخیرہ میں ایک ایسا جزئیہ پاسکتا ہے جس میں فقیہہ نے یہ فتویٰ دیا ہو کہ بچھو کسی کے جسم میں ڈنک داخل کردے تو اس کی وجہ سے اس کا وضو ٹوٹے گایا نہیں۔
مگر اجتہاد خاص کے لئے مذکورہ پانچ شرطوں کے علاوہ ایک اور شرط لازمی طور پر ضروری
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues