حل کی طرف
الرسالہ، اگست ۲۰۰۱، صفحہ ۵۶
کے مذہبی اور تعلیمی اور ثقافتی ادارے تخریبی سرگرمیوں کے مرکز بن گئے ہیں۔ ان خرابیوں کا سب سے زیادہ اندوہناک انجام وہ ہے جس کو برین ڈرین (brain drain) کہا جاتا ہے۔ انسان فطری طور پر ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ اس لئے کسی ملک کی ترقی کے لئے صرف اتنا کافی ہے کہ وہاں لوگوں کو عمل کے کھلے مواقع دکھائی دیتے ہوں۔ مثلاً وہاں امن ہو، بہترین انفراسٹرکچر(infrastructure) ہو۔ آدمی کو اپنی محنت کا پورا صلہ ملتا ہو انظرآئے۔ اگر کسی ملک میں یہ مواقع پوری طرح موجود ہوں تو اس ملک میں ہر آدمی اپنے آپ سرگرم ہو جائے گا اور ملک خود بخود ترقی کرنے لگے گا۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہ ہوسکا۔ پاکستان میں’’پہلے صورت موجودہ (statusquo) کو بدلو‘‘ کے نظریہ کے نتیجہ میں مسلسل طور پر ہنگامی صورت حال باقی ہے۔ وہاں عملی طور پر افراد کے لئے حسب حوصلہ کام کے مواقع تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔ چنانچہ بیشتر حوصلہ مند اور باصلاحیت افراد پاکستان چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ امریکہ کے سفروں کے دوران میں نے امریکہ میں مقیم بہت سے پاکستانیوں سے پوچھا کہ آپ اپنے ملک کو چھوڑ کر یہاں کیوں آگئے ۔ تقریباً سب کا ایک ہی جواب تھا کہ امریکہ میں کام کے مواقع ہیں جب کہ پاکستان میں کام کے مواقع نہیں۔ کشمیر کے بارے میں پاکستان کی غیر حقیقت پسندانہ پالیسی پاکستان کے ترقیاتی سیلاب کے لئے ٹریپ ڈور(trap door) بنی ہوئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان موجودہ زمانہ میں ترقیاتی دوڑ میں پچھڑ گیا ہے۔ پاکستان کو اس پچھڑے پن سے نکالنے کی صرف ایک ہی صورت ہے۔ وہ یہ کہ پاکستان مسائل سے ٹکرانے کے بجائے مواقع کو استعمال (avail) کرنے کی پالیسی اختیار کرے ۔ موجودہ حالات میں اس کی عملی صورت یہ ہے کہ پاکستانی لیڈر کشمیر کے معاملہ میں صورت موجودہ(statusquo) کو علیٰ حالہ ماننے پر راضی ہو جائیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کشمیر میں قبضہ کی لائن (LoAC) کو کچھ ضروری ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تسلیم شدہ سرحد قرار دے دیا جائے ۔ اس معاملہ میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو جغرافی اور سیاسی اسٹیٹس کو (political statusquo) بن گیا ہے اس کو مان کر اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ اپنی اس
‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues