Al-Risala · August 2001 · page 57

حل کی طرف

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱، صفحہ ۵۷

رائے کو میں ۱۹۶۸ سے برابر پیش کر رہا ہوں۔ مزید یہ کہ اس طرح کا انقلابی فیصلہ صرف ایک غیر جمہوری حکمراں ہی کر سکتا ہے۔ کسی جمہوری حکمراں کے لیے ایسا غیر جذباتی فیصلہ لینا ممکن نہیں۔ میرے نزدیک صدر پرویز مشرف کے لیے یہی تاریخی کام مقدر ہے۔ اس معاملہ میں جو لوگ صدر مشرف کے حق اقتدار پر سوال اٹھا رہے ہیں ان کا جواب سابق فوجی صدر محمد ضیاء الحق کی مثال میں موجود ہے۔ اس سے پہلے جنرل محمد ضیاء الحق نے یہی کیا تھا کہ پاکستان کے اقتدار پر فوجی قبضہ کیا۔ اور پھر خود ساختہ کارروائی کے ذریعہ اپنے صدر مملکت ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس وقت پاکستان کے اسلام پسندوں سے لے کر امریکہ کے محکمہ خارجہ تک ہر ایک نے اس کو قبول کر لیا اور قانون ضرورت (law of necessity) کے تحت اس کو جائز قرار دیا۔ یہ نظیر کافی ہے کہ صدر پرویز مشرف کو بھی اسی دلیل کے ساتھ قبول کر لیا جائے۔ یہ ایک منافقانہ کردار ہے کہ جہاں ذاتی انٹرسٹ دکھائی دے وہاں آدمی پریکٹیکل بن جائے اور جہاں ذاتی انٹرسٹ کا معاملہ نہ ہو وہاں وہ آئیڈ یلزم کی بات کرنے لگے۔ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کا اقتدار سنبھالنا اور پھر ۲۰ جون ۲۰۰۱ کو ملک کے صدر کی حیثیت سے حلف لینا بظاہر ایک غیر آئینی واقعہ ہے مگر میرے نزدیک وہ ایک بالکل بروقت واقعہ ہے۔ موجودہ صورت حال میں پاکستان کو جو جرات مندانہ فیصلہ لینا ہے وہ صدر پرویز مشرف جیسا فوجی حکمراں ہی لے سکتا ہے۔ انتخابات کے ذریعہ بننے والے کسی جمہوری حکمراں کے لئے ایسا غیر جذباتی فیصلہ لینا ممکن ہی نہیں۔

اس مسئلہ کا واحد علاج یہ ہے کہ پاکستان اپنی جذباتی پالیسی کو چھوڑ کر حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرے ۔ وہ کشمیر کے سوال پر ہندوستان سے سمجھوتہ کر لے تا کہ ملک میں امن کی فضا پیدا ہو اور ملکی ذرائع کو تعمیری سرگرمیوں کی طرف موڑا جا سکے۔

پچھلے ۵۵ سال سے پاکستان کی سیاست ایک ہی سوال پر مرتکز رہی ہے۔ اور وہ ہے ۔ کشمیر میں قائم شدہ سیاسی حالت (political statusquo) کو بدلنا ۔ اب آخری طور پر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ پالیسی ایک تباہ کن پالیسی ہے۔ وہ سرے سے کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page