Al-Risala · August 2001 · page 63

Your comments help us to serve you better.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱، صفحہ ۶۳

جیسے ہر آدمی زبان حال سے یہ کہہ رہا ہو کہ یہ جو کچھ مجھے ملا ہے یہ کسی اور کا عطیہ نہیں۔ یہ میں نے خود اپنی محنت اور اپنی صلاحیت سے حاصل کیا ہے۔ گویا وہی نفسیات جو قارون کی زبان سے قرآن میں ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے: إنما اوتيته علی علم عندی (القصص ۷۸)

یہ مناظر دیکھ کر میرا دل تڑپ اٹھا۔ میں نے کہا کہ لوگ حقیقت سے کتنا زیادہ دور ہیں۔ جو چیز سراسر خدا کا عطیہ ہے اس کو وہ اپنی ذاتی ملکیت سمجھ رہے ہیں۔ جن چیزوں کو پا کر کے انہیں شکر خداوندی کے احساس میں غرق ہو جانا چاہئے تھا اس سے وہ صرف فخر اور برتری کی غذا لے رہے ہیں۔ یہ بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی محرومی ہے۔

کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا مشن یہ ہے کہ وہ دنیا میں خدا کی حکومت قائم کریں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خدا کی حکومت بروقت ہی کامل طور پر قائم ہے اور مومن وہ ہے جو خدا کی اس قائم شدہ حکومت کا اعتراف کرکے اس کے آگے آزادانہ طور پر سرنڈر کر دے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کی اس قائم شدہ حکومت کا متقیانہ شہری بنا لے۔ اسی اختیاری اطاعت کا دوسرا نام ایمان ہے۔ کوچ کے اندر اس کے عملہ کی طرف سے مسافروں کو ایک فارم دیا گیا۔ اس فارم پر مسافر کو اپنا سفری تجربہ درج کرنا تھا۔ اس مطبوعہ فارم کے اوپر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :

Your comments help us to serve you better.

میں نے اپنے تبصرہ میں کھانے اور سروس وغیرہ کے بارے میں تعریفی الفاظ لکھے۔ فارم میں ایک خانہ تجویز (suggestion) کا تھا۔ سفر کے دوران واحد جو چیز میرے لئے تکلیف دہ ثابت ہوئی وہ یہ تھی کہ اس ایگز یکٹیو کو چ کو انہوں نے مکمل طور پر ائرکنڈیشنڈ کرکے مسافروں کو باہر کے شور سے تو محفوظ کر دیا تھا مگر اس کے اندر میوزک کے نام پر گانا اور باجا سنایا جا رہا تھا جو میرے نزدیک خود بھی شور کے ہم معنی تھا۔ چنانچہ میں نے تجویز کے خانہ میں یہ الفاظ لکھ دئے:

The loud music in the coach was very disturbing. For me it was nothing but noise polution. Either you must put a stop to it or arrange for headphones as in aeroplane.

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page