Al-Risala · August 2001 · page 65

Your comments help us to serve you better.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱، صفحہ ۶۵

راستہ میں ہماری ٹرین انبالہ سے گزری۔ انبالہ کے ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کچھ دیر کے لئے رکی تو مجھے یاد آیا کہ تقریباً ۳۰ سال قبل میں پہلی بار انبالہ آیا تھا۔ اور یہاں وقف بورڈ کے دفتر میں کچھ دیر ٹھہرا تھا۔ اس سفر کا مختصر تذکرہ اسی زمانہ میں الجمعیۃ ویکلی میں شائع ہوا تھا۔ یکم اکتوبر ۲۰۰۰ کو بی بی سی لندن کے ایک نشر یہ میں انبالہ کا ذکر سنا۔ یہ انبالہ کی جامع مسجد کے خطیب قاری محمد اسحاق صاحب کا انٹرویو تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تقسیم سے پہلے انبالہ شہر میں ۲۰۰ مسجدیں تھیں ۔ تقسیم کے بعد انبالہ سے امرتسر کا علاقہ مسلمانوں سے خالی ہو گیا تھا۔ اب اس علاقہ میں ہر جگہ مسلمان آکر آباد ہو گئے ہیں۔ ہر جگہ مسجدوں سے اللہ اکبر کی آوازیں دوبارہ سنائی دینے لگی ہیں۔ انبالہ میں اس وقت پانچ مسجدیں آباد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انبالہ کی جامع مسجد میں تقسیم کے بعد کچھ غیر مسلم رہنے لگے تھے۔ ۱۹۵۱ میں مجھے وقف بورڈ کی طرف سے یہاں کا امام مقرر کیا گیا تو میں نے ان قابضین کے خلاف کارروائی شروع کی۔ کئی سال کے مقدمہ کے بعد مقامی ہندوؤں کی مدد سے مسجد خالی کرانے میں کامیابی ہوئی۔

قاری محمد اسحاق صاحب نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ جب انبالہ کی جامع مسجد خالی ہوگئی اور یہاں صفائی کر کے پہلا جمعہ پڑھا گیا تو وہ ایک عجیب یادگار دن تھا۔ میں منبر پر خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا تو میں جذبات سے اس قدر بھر اہوا تھا کہ میں بے اختیار رونے لگا۔ میں نے اس دن پورا خطبہ روتے ہوئے پڑھا۔ جمعہ کی اس نماز میں کافی مسلمان اکٹھا ہو گئے تھے۔ ان میں کئی ایسے مسلمان بھی تھے جو فوجی ملازمتوں میں تھے۔ لوگوں پر ایسا تاثر ہوا کہ سب کے سب رونے لگے۔ قاری محمد اسحاق صاحب نے بتایا کہ جب میں پہلی بار انبالہ آیا اور جامع مسجد کا منظر دیکھا تو بظاہر یہ نا ممکن معلوم ہوتا تھا کہ یہ مسجد دوبارہ خالی ہو کر آباد کی جاسکے گی۔ مگر اللہ کے بھروسہ پر میں نے اپنا کام شروع کیا۔ اس میں تقریباً تین سال لگے۔ آخر کار مقامی ہندوؤں کا تعاون اور عدالت کے انصاف کی بنا پر مجھے کامیابی ہوئی اور آج اللہ کے فضل سے یہ مسجد پہلے سے زیادہ شاندار طور پر آباد ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page