Your comments help us to serve you better.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۱، صفحہ ۶۶
تقریباً چھ گھنٹہ سفر کرنے کے بعد میں امرتسر ریلوے اسٹیشن پر پہنچا۔ یہاں گرو نانک یونیورسٹی کے ڈاکٹر جسوند ر سنگھ ڈھلوں رہنمائی کے لئے موجود تھے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر گرو نانک یونیورسٹی پہنچا۔ یہاں میرا قیام یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ شہر کی مختلف سڑکوں سے گزرتے ہوئے ایک انوکھا احساس میرے ذہن میں آرہا تھا۔ آج اس تاریخی شہر کو دیکھ رہا ہوں جس کی بنیاد تقریباً پانچ سوسال پہلے قائم کی گئی تھی۔ شہر میں صفائی اور ڈسپلن کا معیار ملک کے دوسرے کئی شہروں سے اچھا نظر اآیا۔
امرتسر کی ابتدائی بنیاد کے بارے میں ایک عجیب و غریب کہانی مشہور ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک عورت کا شوہر اپنگ (اپاہج) ہو گیا تھا۔ جب وہ عورت کہیں جاتی تو اس کو اسے اپنے سر پر رکھ کر لے جانا پڑتا۔ ایک دن وہ اپنے اپنگ شوہر کو لے کر جنگل گئی۔ وہاں اس نے اس کو ایک درخت کے نیچے بٹھایا اور پھر جنگل میں اپنی ضرورت کے لئے چلی گئی۔ درخت کے پاس ایک چشمہ تھا۔ اپنگ مرد نے دیکھا کہ وہاں ایک کو آیا۔ اس نے اس چشمہ میں غوطہ لگایا۔ غوطہ لگاتے ہی وہ سفید ہو گیا۔ اسی طرح وہاں کئی کوے آئے اور ہر ایک چشمہ کے پانی کی طلسماتی کرامت سے کالے سے سفید بنتار ہا۔
یہ دیکھ کر اپنگ مرد کو بھی شوق پیدا ہوا۔ وہ کسی نہ کسی طرح گھسٹ کر چشمہ کے پاس پہنچا اور اس کا پانی اپنے سارے بدن پر ڈالنا شروع کیا۔ تھوڑی ہی دیر میں اسے محسوس ہوا کہ میرے اندر تبدیلی آرہی ہے ۔ یہاں تک کہ چند لمحوں میں اس کی بیماری ختم ہو گئی اور وہ ایک نارمل انسان بن کر کھڑا ہو گیا ۔ یہ تبدیلی اتنی زیادہ نمایاں تھی کہ جب اس کی بیوی آئی تو وہ اس کو پہچان نہ سکی کہ یہ شخص وہی ہے جو میرا شوہر تھا۔ اس حیرت انگیز واقعہ کی شہرت بڑھی تو سکھوں کے چوتھے گرو، گرو رام داس جی نے ۱۵۷۷ء میں اسی مقام پر امرتسر شہر کی بنیاد ڈالی۔ اس وقت یہ پورا علاقہ جنگلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔
یہ کہانی بلاشبہ ایک افسانہ ہے نہ کہ حقیقت۔ مگر یہاں کے لوگ اس کہانی کو اس طرح بیان
‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues