Al-Risala · August 2001 · page 67

Your comments help us to serve you better.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱، صفحہ ۶۷

کرتے ہیں جیسے کہ وہ فی الواقع ایک تاریخی حقیقت ہو۔ مجھے اپنے تجربہ میں بہت کم ایسے لوگ ملے ہیں جو توہم (superstition) اور حقیقت (reality) میں فرق کرتے ہوں۔ ۹۹ فیصد سے زیادہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ جو کچھ وہ سنتے اور پڑھتے ہیں اس کو وہ علمی جانچ (scientific scrutiny) کے بغیر مان لیتے ہیں۔

۵۰۰ سال پہلے امرتسر کے آس پاس بہت دور تک کا علاقہ سرسبز جنگلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ آج یہاں جنگل نظر نہیں آتے۔ جغرافی اصول کے مطابق، کسی ملک کا کم از کم ۳۰ فیصد حصہ جنگل پر مشتمل ہونا چاہئے۔ یہ موسمی توازن کے لئے بے حد ضروری ہے۔ مگر عرصہ سے ہندوستان کے جنگلات میں کمی واقع ہورہی ہے۔ ۱۹۴۷ میں ہندوستان جب آزاد ہوا تو ملک کی زمین کا ۲۲ فیصد حصہ جنگلات کے تحت تھا۔ مسلسل کٹاؤ کے نتیجہ میں آج ہندوستان میں صرف ۹ فیصد جنگل باقی رہ گئے ہیں۔ درخت کاٹے جارہے ہیں، مگر درخت لگائے نہیں جاتے ۔ یہ بے حد خطرناک صورت حال ہے۔ اس کا برا انجام آج ہی شروع ہو چکا ہے، آئندہ کیا ہوگا اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔

امرتسر کا لفظ سب سے پہلے میں نے غالباً ۱۹۳۵ میں جانا۔ اس وقت میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ مقامی مدرسہ میں جب میں نے ابتدائی اردو کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد عربی کی تعلیم شروع کی تو مجھے کتاب النحو اور کتاب الصرف پڑھنے کے لئے دی گئی۔ اس کے مصنف مولا نا حافظ عبد الرحمن امرتسری تھے۔ یہ دونوں کتابیں میں نے تقریباً رٹ ڈالیں مگر ان کے قدیم اسلوب کی بنا پر ان کو رٹنے کے باوجود میں عربی زبان سے اس قدر نا آشنا رہا کہ میں سوچتا تھا کہ شاید یہ عوامی مقولہ صحیح ہے کہ: پڑھے عربی، پگھلے چربی۔

مگر یہ میری خوش قسمتی تھی کہ ۱۹۳۸ میں میرے چچا صوفی عبدالمجید خاں مرحوم نے مجھے ایک بڑے تعلیمی ادارہ مدرسۃ الاصلاح میں داخل کر دیا۔ یہاں مجھے معلوم ہوا کہ مولانا امرتسری کے قدیم نہج کے علاوہ بھی عربی صرف ونحو کی تعلیم کا ایک اور طریقہ ہے جو اس کے مقابلہ میں نہایت آسان اور قابلِ فہم ہے۔ یہ مولانا حمید الدین فراہی کی تیار کردہ کتابیں، اسباق النحو اور اسباق الصرف، وغیرہ تھیں جو

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page