Al-Risala · August 2001 · page 68

Your comments help us to serve you better.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱، صفحہ ۶۸

قدیم انداز سے ہٹ کر نئے انداز میں لکھی گئی تھیں ۔ یہ گویا عربی گرامر کی کامیاب تسهیل تھی۔ جب میں نے مولانا حمید الدین فراہی کی کتابوں کے ذریعہ عربی نحو اور صرف کو پڑھنا شروع کیا تو وہ میرے لئے اتنا زیادہ آسان ثابت ہوا کہ وہ میرا محبوب موضوع بن گیا۔ تسهیل کے انداز میں اب بہت سی کتابیں اردو، عربی اور انگریزی میں دستیاب ہیں۔

اس ابتدائی دور تعلیم کی ایک مثال اب تک مجھے یاد ہے۔ یہ عربی انشاء کا ایک پرچہ تھا۔ اس پرچہ میں اردو کے کچھ جملے تھے جن کو عربی میں منتقل کرنا تھا۔ ان میں سے ایک جملہ یہ تھا کہ میں تین دن سے بخار میں مبتلا ہوں۔ میرے درجہ کے تقریباً تمام طلبہ نے اس جملہ کی عربی اس طرح بنائی تھی: انی مبتلا بالحمیٰ منذ ثلاثة ایام ۔ مگر میں نے اس کی عربی کسی قدر فرق کے ساتھ اس طرح بنائی تھی: ابتليت بالحمی منذ ثلاثة أيام ۔

یہ پرچہ مدرسہ کے جس استاد کے پاس تھا انہوں نے بعد کو مجھے بلایا اور کہا کہ دوسرے طالب علموں کے ترجمہ میں اردو پن تھا اور تمہارے ترجمہ میں عربی پن ۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے اندر ادبی ذوق ہے اس لئے تم لکھنے کی مشق کرو اور مجھے دکھایا کرو۔

امرتسر میں یونیورسٹی گیسٹ ہاؤس میں جب میں اپنے کمرہ میں آیا تو یہاں کے کارکن نے کہا کہ آپ کو یہاں اپنے سامان کے بارہ میں کچھ ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں آپ کی ہر چیز تالہ کے بغیر سر چھت ہے۔ میرے پاس اگر چہ کوئی ایسی چیز نہ تھی جس کی حفاظت کی ضرورت ہو لیکن جب میں وہاں گھوما پھراتو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے گیسٹ ہاؤس کا پورا ماحول زبان حال سے کہہ رہا ہو کہ فکر نہ کیجئے، یہاں آپ کی ہر چیز بالکل محفوظ ہے۔

گیسٹ ہاؤس کے پاس بہت بڑا پارک تھا۔ میں شام کو اس پارک میں دیر تک ٹہلتا رہا۔ اس وقت اندھیرا ہو چکا تھا مگر میں نے دیکھا کہ پارک کے مختلف حصوں میں عورتیں بے فکری کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں جیسے کہ انہیں کسی چیز کا ڈر نہ ہو۔ میرا خیال ہے کہ جس طرح سکھ لوگوں کے درمیان یہ روایت قائم ہو چکی ہے کہ کوئی سردار کبھی بھیک نہیں مانگتا اسی طرح شاید یہاں کی روایت میں یہ بھی شامل ہو چکا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page