Al-Risala · August 2001 · page 69

Your comments help us to serve you better.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱، صفحہ ۶۹

ہے کہ چوری وغیرہ جیسی چیز کو سردار لوگ اپنے لئے اپنے رتبہ سے کم تر چیز سمجھتے ہیں۔ امرتسر کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی موسیٰ راجدھانی تھا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ اگر چہ تعلیم یافتہ نہ تھا مگر وہ غیر معمولی صفات کا حامل تھا، اس کے بارے میں بہت سے واقعات معلوم ہوئے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ اپنے ہاتھی پر بیٹھ کر بازار میں نکلا۔ اس وقت ایک پیشہ ور رقاصہ بھی اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ منظر سردار لوگوں کو بہت ناپسند ہوا۔ چنانچہ اس کا مقدمہ اکال تخت تک پہنچا۔ اکال تخت کی طرف سے مہاراجہ رنجیت سنگھ کو بلايا گیا۔ اس کا جرم ثابت ہونے پر اکال تخت کی طرف سے یہ فیصلہ سنایا گیا کہ رنجیت سنگھ کے شاہانہ کپڑے اتار دئے جائیں اور اس کو ایک پیڑ میں باندھ دیا جائے اور اس کے بعد اس کو جوتے سے مارا جائے ۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پاس اس وقت ایک طاقتور فوج تھی۔ وہ اس فیصلہ کو نہ ماننے کے لئے کوئی بھی کارروائی کر سکتے تھے۔ مگر انہوں نے خاموشی کے ساتھ اس فیصلہ کو مان لیا۔ یہاں تک کہ ان کو پیڑ سے باندھ دیا گیا۔ قریب تھا کہ ان کو جوتے سے مارا جائے۔ مگر حاضرین نے ایک زبان ہو کر کہا کہ بس، اتنا کافی ہے۔ چنانچہ اس کے بعد ان کو چھوڑ دیا گیا۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ایسا کر کے اپنی قوم پر بہت بڑا احسان کیا۔ کیوں کہ اس طرح انہوں نے اعتراف کی عظیم روایت اپنی قوم میں قائم کردی۔ قومی زندگی روایات پر چلتی ہے۔ اور اس قسم کی اعلیٰ روایات ہمیشہ قوم کے بڑے لوگ قائم کرتے ہیں۔ کسی بڑے آدمی کے لئے مذکورہ قسم کی روایت قائم کرنا بلا شبہ نہایت مشکل قربانی ہے۔ مگر وہی قوم ترقی کرتی ہے جس کے بڑے اس قسم کی مشکل قربانی دینے کے لئے تیار ہوں۔

امرتسر ایک تاریخی شہر ہے۔ ہندوستان میں ۳۰۰۰ تاریخی شہر اور قصبے ہیں۔ امرتسر ان میں سے ایک اہم شہر ہے۔ وہ ملک کے شمال مغربی حصہ میں واقع ہے۔ وہ راجدھانی دہلی سے ۴۶۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ پاکستان کی بین اقوامی سرحد سے وہ صرف ۲۶ کلومیٹر دور ہے۔ امرتسر پنجاب کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس شہر کو گرورام داس نے ۱۵۷۷ میں قائم کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page