Al-Risala · August 2001 · page 70

Your comments help us to serve you better.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱، صفحہ ۷۰

گرو رام داس سکھوں کے چوتھے گرو تھے۔ انہوں نے امرتسر کو ایک مقدس تالاب کے کنارے قائم کیا جس کا نام امرتیا سرس تھا۔ شہر کا نام اس تالاب کے نام پر امرتسر رکھا گیا۔ امرتسر سکھ دھرم کا مرکزی مقام ہے۔ 1849 میں اس کو برٹش انڈیا میں شامل کیا گیا۔ مشہور جلیان والا باغ اسی امرتسر میں ہے جہاں انگریزی فوج نے ۱۹۱۹ میں ایک سیاسی جلسہ پر گولی چلا دی تھی جس میں سیکڑوں آدمی مرگئے تھے۔

امرتسر کے جلیان والا باغ کو باہر سے دیکھا۔ ۱۹۱۹ میں جب کہ یہاں جنرل ڈائر نے گولی چلائی تھی اس وقت وہ ایک پارک کی صورت میں تھا۔ اس فائرنگ میں ۳۷۹ لوگ مرے تھے اور ۱۲۰۰ لوگ زخمی ہوئے تھے۔

اس واقعہ کے بارے میں لمبی مدت تک میں صرف یہی جانتا تھا کہ انگریز نے یہاں نہتے لوگوں پر گولی چلائی۔ بہت بعد کو ذاتی مطالعہ کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہ ایک خلاف قانون جلسہ تھا جو پیشگی ممانعت کے باوجود کیا گیا تھا۔

آزادی ہند کی تحریک پر امن اصول کی بنیاد پر چلائی گئی۔ یہ بات صرف جزئی طور پر درست ہے کیوں کہ عملاً جو ہوا وہ یہ تھا کہ اس پر امن لڑائی میں گولی اور بم کی جگہ ”قانون شکنی“ کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ قانون شکنی کو ہمارے تمام لیڈروں نے بہت بڑے پیمانہ پر گلوریفائی (glorify) کیا۔ ۱۹۷ سے پہلے کی قانون شکنی بظاہر انگریزی حکومت کے خلاف تھی، اس لئے اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی تھی۔ مگر ملک کا پورا معاشرہ قانون شکنی کے اس مزاج کو لے کر جب آزادی کے دور میں داخل ہوا تو اب قانون شکنی کے اس’’ بم‘‘ کا نشانہ خارجی دشمن نہیں بلکہ خود اپنا ملک اور اپنا سماج تھا۔ پچھلے آندولن کے نتیجے میں قانون کے احترام کی روایات ٹوٹ چکی تھیں۔ اس کے برعکس قانون کو ناقابل احترام سمجھنے کی روایات ہر طرف پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورا ملک قانونیت (lawlessness) کا شکار ہوکر رہ گیا۔

امرتسر کا گردوارہ مختلف ناموں سے مشہور ہے: ہری مندر، دربار صاحب، سورن مندر،

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page