Your comments help us to serve you better.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۱، صفحہ ۷۱
گولڈن ٹیمپل ۔ یہ سکھ لوگوں کا سب سے زیادہ مقدس مقام ہے۔ یہ گردوارہ ۱۶۰۲ میں گرو ارجن نے بنایا تھا۔ اس کا سنگ بنیاد لاہور کے ایک صوفی میاں میر نے رکھا تھا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور حکومت (۱۸۰۱-۱۸۳۹) میں اس پر سونے کی پلیٹیں چڑھائی گئیں جو آج تک اس کے اوپر موجود ہیں۔
گولڈن ٹیمپل ایک کلومیٹر مربع کے رقبہ میں واقع ہے۔ وہ ۲۴ گھنٹہ کھلا رہتا ہے۔ یہاں ہر روز تقریباً ڈیڑھ لاکھ آدمیوں کو تینوں وقت لنگر کے تحت کھانا کھلایا جاتا ہے۔ آپ رات دن جس وقت بھی وہاں جائیں، وہ انسانوں سے آباد ملے گا۔
ڈاکٹر جسو ندر سنگھ ڈھلوں کے ساتھ14 ستمبر کی رات کو میں وہاں گیا اور تفصیل سے اس کے ہر حصہ کو دیکھا۔ یہاں وہی سب مناظر دکھائی دئے جو عام طور پر درگاہوں میں ہوتے ہیں۔ مگر اس فرق کے ساتھ کہ یہاں سارا کیمپس آخری حد تک صاف ستھرا اور منظم تھا۔ جوتا رکھنے کے لئے ایک پورا ڈپارٹمنٹ بنا ہوا تھا۔ کہیں کوئی شخص روک ٹوک کرنے والا یا نند رانہ مانگنے والا دکھائی نہیں دیا۔ اس کے گیٹ پر فقیروں کی قطاریں بھی نہیں تھیں۔ یہ گردوارہ ایک وسیع ایمپائر کی مانند تھا۔ وہاں صفائی اور انتظام اور لنگر سے لے کر زائرین کے جوتوں کی نگہداشت تک ہر قسم کی سرگرمیاں نہایت نظم اور سلیقہ کے ساتھ جاری تھیں ۔ اور یہ سب کچھ والنٹیر قسم کے لوگ انجام دے رہے تھے۔ یہاں نہ کوئی تنخواہ دار عملہ تھا اور نہ مختلف قسم کے کاموں کی دیکھ بھال کے لئے کوئی ناظم یا نگراں ہر کام آٹومیٹک مشین کی طرح انجام پارہا تھا۔ میں دیر تک اس گردوارہ میں رہا اور نیچے اوپر اس کے تقریباً ہر حصہ کو چل کر دیکھا۔ میں مسلم دنیا اور غیر مسلم دنیا کے بیشتر مقامات پر گیا ہوں مگر اس قسم کا نظم اور صفائی مجھے کسی اور جگہ دیکھنے کو نہیں ملی۔ اور یہ بات تو نا قابل فہم حد تک تعجب خیز تھی کہ اگر چہ یہاں رات دن لاکھوں کی تعداد میں زائرین آتے ہیں مگر ان زائرین کا مالی استحصال کرنے والا یہاں کوئی نہیں۔
ان سب سے بڑھ کر اعجب العجائب چیز جو وہاں میرے تجربہ میں آئی وہ یہ تھی کہ ان ساری اعلیٰ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues