Al-Risala · August 2001 · page 72

Your comments help us to serve you better.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱، صفحہ ۷۲

ترین سرگرمیوں کا مرکز جو چیز تھی وہ سائنٹفک ذہن رکھنے والے ایک انسان کے لئے توہم (superstition) کے سوا اور کچھ نہیں۔ اتفاق سے میں ایسے وقت وہاں گیا تھا جب کہ میں اس توہماتی معاملہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا تھا۔

گردوارہ کے درمیانی حصہ میں ایک مخصوص جگہ ہے جہاں وہ مقدس کتاب رکھی ہوئی ہے جس کو گرو گرنتھ صاحب کہا جاتا ہے۔ یہ ایک موٹی، چوکور سائز میں ہاتھ سے لکھی ہوئی کتاب ہے جو سکھ عقیدہ کے مطابق عام معنوں میں صرف ایک کتاب نہیں ہے بلکہ وہ زندہ گرو کی حیثیت رکھتی ہے۔ پوری کتاب ایک خاص کپڑے سے ڈھکی ہوئی تھی۔ اس کو ہر روز سونے کی ایک پالکی میں رکھ کر ایک زندہ آدمی کی طرح اکال تخت لے جایا جاتا ہے۔ اس دوران اس کے رکھنے کی مخصوص جگہ کو اہتمام کے ساتھ دھویا جاتا ہے اور صاف کیا جاتا ہے۔ اور پھر گرو گرنتھ صاحب کو دوبارہ سونے کی پالکی میں رکھ کر واپس لاتے ہیں۔ اس پورے عمل کے دوران وہاں معتقدین کی زبردست بھیڑ رہتی ہے۔ گرو گرنتھ صاحب کے اوپر مورچھل کے ذریعہ مسلسل پنکھا کیا جاتا ہے جیسے کہ وہ سچ مچ کوئی زندہ شخصیت ہو۔

اس پورے معاملہ کی توجیہ کیا ہے، یہ ایک مشکل سوال ہے۔ تجربہ کی روشنی میں ایک بات یہ کہی جاسکتی ہے کہ اس دنیا میں پراسرار عقیدہ عوام کے لیے ہمیشہ زیادہ طاقتور ثابت ہوا ہے، خواہ وہ کتنا ہی زیادہ خلاف عقل کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس عقلی اور منطقی بات عملاً سب سے زیادہ غیر مؤثر رہی ہے خواہ وہ کتنا ہی زیادہ ثابت شدہ کیوں نہ ہو۔ اس فرق کا سبب غالباً یہ ہے کہ پراسرار چیز میں ہمیشہ برکت کا تصور شامل ہو جاتا ہے۔ اس میں ہر شخص کو اپنی حالت اور ضرورت کے لحاظ سے برکت ملنے لگتی ہے، اگرچہ یہ پورا معاملہ فرضی امیدوں کا کاروبار (false hopes business) کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جو چیز عقلی اور منطقی ہو اس میں لوگوں کو برکت دکھائی نہیں دیتی۔ سکھ دھرم میں گرو گو بند سنگھ کو دسواں گرومانا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ حکم دیا کہ دسویں گرو کے بعد اب کوئی زندہ گرو نہیں ہوگا۔ یہ جو آدی گرنتھ ہے اب سے وہ گرو گرنتھ صاحب کہا جائے گا۔ اس کو لونگ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page