Al-Risala · August 2001 · page 73

Your comments help us to serve you better.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱، صفحہ ۷۳

گرو (living guru) کی طرح مانا جائے۔ سب سکھن کو حکم ہے گرو مانیو گرنتھ۔ یہ ایک عجیب و غریب عقیدہ ہے کہ ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک کتاب کو ہمیشہ کے لئے زندہ گرو کے طور پر مانا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک توہماتی قسم کا عقیدہ ہے۔ مگر اس توہماتی عقیدہ کا عملی فائدہ سکھ کمیونٹی کو یہ ملا کہ وہ سیکڑوں سال سے متحد حالت میں قائم ہے۔ ’’ زندہ گرو‘‘ کا یہی غیر زندہ عقیدہ ہے جو سکھوں کو زندہ قوم بنانے میں سب سے زیادہ کارگر ثابت ہوا ہے۔

میرے تجربہ کے مطابق ، سردار لوگوں میں ایک استثنائی صفت ہے اور وہ ہے ڈائرکشن کو فوراً بدل لینا۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے ۱۹۶۵ کا ایک واقعہ بتایا۔ اس وقت وہ نینی تال میں تھے۔ وہاں انہوں نے ایک سڑک پر دیکھا کہ ایک اسکوٹر والا پیدل چلتے ہوئے ایک نوجوان سے ٹکرا گیا۔ دونوں میں کسی کو سخت چوٹ تو نہیں آئی، تاہم دونوں سڑک پر گر پڑے۔ دونوں میں سے ایک بظاہر کمزور تھا اور دوسرا طاقتور اور تنومند۔ طاقتور آدمی کمزور نوجوان کو گرا کر اس کے سینہ پر بیٹھ گیا اور اس کو مارنے لگا۔ عین اُس وقت نوجوان نے پنجابی زبان میں کچھ کہا۔ یہ سن کر اوپر والے آدمی نے اس سے پوچھا: کیا تم سردار ہو۔ نیچے والے نوجوان نے کہا کہ ہاں۔ اس کے بعد اوپر والے آدمی نے فوراً اس کو چھوڑ دیا اور کہا کہ پہلے کیوں نہیں بتایا۔ (سبق آموز واقعات، صفحہ ۲۸)

ایک لمحہ میں ڈائرکشن کو بدل لینے کی یہ صفت سردار لوگوں میں بہت زیادہ ہے۔ اس کا ایک انوکھا مظاہرہ بیسویں صدی کے ربع آخر میں ہوا۔ اس زمانہ میں پنجاب میں علیحدہ اسٹیٹ بنانے کی تحریک ہنگامہ خیز طور پر شروع ہوئی۔ 1984 میں یہ تحریک اتنے عروج پر پہنچ گئی کہ بہت سے لوگ یہ سمجھنے لگے کہ علیحدہ سکھ اسٹیٹ بن کر رہے گا۔

۴ ستمبر ۱۹۸۲ کا واقعہ ہے، لکھنؤ کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان مجھ سے دہلی میں ملے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے پورے یقین کے ساتھ مجھ سے کہا کہ علیحدہ سکھ ریاست بن کر رہے گی۔ میں نے کہا کہ ہرگز ایسا ہونے والا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکھ لوگوں کا عزم اتنا زبردست ہے کہ وہ جو چاہتے ہیں کر کے رہتے ہیں۔ اور اس کو بھی وہ کر کے دکھا دیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page