Acceptance of Reality.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۱
انہوں نے اپنے قلم سے میری ڈائری میں یہ الفاظ لکھے:
Within 3 years Punjabis will have an independent Khalistan.------Bet Rs. 1 lakh. ان کو اس معاملہ میں اتنا زیادہ یقین تھا کہ انہوں نے کہا کہ اگر اب سے ۳ سال کے اندر پنجاب میں علیحدہ سکھ ریاست نہ بنی تو میں ایک لاکھ روپے آپ کو دوں گا۔ اب اس واقعہ پر ۱۶ سال سے زیادہ گزر چکے ہیں مگر جیسا کہ معلوم ہے، سکھ ریاست بننا تو درکنار، اس کا تصور بھی اب سکھوں میں ختم ہو گیا۔
میرا ذہن اس طرح کے معاملہ میں ہمیشہ بالکل صاف رہا ہے۔ میں اول دن سے یہ کہتا رہا ہوں کہ سکھ ریاست کبھی بننے والی نہیں۔ اپریل ۱۹۸۶ کے آخری ہفتہ میں امرتسر میں کچھ سکھوں نے بطور خود آزاد خالصتان کے قیام کا اعلان کر دیا۔ عین اسی زمانہ میں میں نے دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس میں ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان یہ تھا:
Acceptance of Reality.
میرا یہ مضمون پنجاب اور کشمیر دونوں کے بارے میں تھا۔ میں نے پنجابیوں اور کشمیریوں دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ علیحدہ پنجاب اور علیحدہ کشمیر کی تحریکیں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں، وہ حقیقت کی چٹان سے ٹکرانے کے ہم معنی ہے۔ اس قسم کی کوشش سے کچھ لوگ اپنا سر تو توڑ سکتے ہیں مگر وہ صورت حال کو بدل نہیں سکتے۔ میں نے دونوں جگہ کے لوگوں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ حقیقت پسندی سے کام لیں اور صورت موجودہ (statusquo) کو مان کر مثبت انداز میں اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔
سکھ لوگ جلد ہی معاملہ کو سمجھ گئے۔ اور انہوں نے اس معاملہ میں اپنی متشددانہ تحریک ختم کردی۔ کشمیر کے لوگ بھی یقینی طور پر آخر کار یہی راستہ اختیار کریں گے مگر اس وقت جب کہ ان پر فارسی کا یہ شعر صادق آ چکا ہوگا:
آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues