Al-Risala · August 2001 · page

آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱

اس فرق کا سبب غالباً یہ ہے کہ سکھ لوگوں کے پاس اپنی تباہی کو جائز ثابت (justify) کرنے کے لئے کوئی شاندار نظریہ موجود نہ تھا۔ جب کہ دوسرے گروہ کے پاس ایسے شاندار نظریات موجود ہیں جن کے ذریعہ وہ خودکشی کو شہادت جیسا خوبصورت عنوان دے سکیں۔

مذکورہ قسم کا ایک تجربہ مجھے کشمیر کے معاملہ میں بھی پیش آیا۔ 27 جنوری1992 کاواقعہ ہے۔ کشمیر کے دو تعلیم یافتہ مسلمان دہلی آئے اور مجھ سے ملاقات کی۔ یہ لوگ خود تو کسی جنگجو تنظیم کے باضابطہ ممبر نہیں تھے مگر وہ کشمیر کی جنگجوئی کی تحریک کے پوری طرح حامی تھے۔ وہ عملی جنگجو نہ ہوتے ہوئے بھی پورے معنی میں فکری جنگجو تھے۔

گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی نام نہاد تحریک کشمیر کسی بھی اعتبار سے درست نہیں۔ وہ نہ جہاد ہے اور نہ اس سے اسلامی نظام قائم ہونے والا ہے۔ اور نہ علیحدگی کی کوئی معنویت ہے۔ اس کا نتیجہ بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ انہوں نے پرجوش طور پر اپنی موجودہ تحریک کی حمایت کی اور دعویٰ کیا کہ ہم جلد ہی ایک عظیم کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔ پھر انہوں نے میرے کہنے پر اپنے دستخط کے ساتھ حسب ذیل الفاظ میری ڈائری میں لکھے:

ہندوستان سے علیحدگی کے بعد جو کشمیر بنے گا، انشاء اللہ وہ کشمیر اسلامی کشمیر ہوگا۔ اس کے بعد میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی یہ بات بے بنیاد خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ آپ لوگوں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ آپ کے اندازے کتنے زیادہ بے حقیقت تھے۔ پھر میں نے اپنی ڈائری میں ان کے سامنے یہ الفاظ لکھے:

بالفرض اگر کشمیر ہندوستان سے علیحدہ ہو تو اس کے بعد جو آزاد کشمیر یا پاکستانی کشمیر بنے گا وہ ایک برباد کشمیر ہوگا۔ کشمیر یوں کے لئے چوائس (choice) ہندوستانی کشمیر یا پاکستانی کشمیر میں نہیں ہے۔ بلکہ ہندوستانی کشمیر یا برباد کشمیر میں ہے۔

اس واقعہ پر اب تقریباً دس سال پورے ہو رہے ہیں۔ اس دس سالہ تجربہ نے آخری طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ مذکورہ کشمیری مجاہد کے الفاظ فرضی خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہ تھے۔ اس کے برعکس میں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page