Al-Risala · August 2001 · page

آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱

اور کوئی چیز بازار میں آئے گی تو وہ اپنی کوالٹی یا اپنی پلسٹی کے اعتبار سے اتنی ممتاز ہوگی کہ لوگ اسی پر ٹوٹ پڑیں گے اور ہندوستانی تاجروں کے غیر معیاری سامان کو خریدنا پسند نہ کریں گے، اگر چہ یہ ہندوستانی سامان بھی افراط کے ساتھ بازار میں موجود ہوگا۔ ہندوستانی تاجروں کو کہنا یہ چاہئے تھا کہ امریکہ کے معیاری سامان کی موجودگی میں خود ہندوستانی لوگ ہمارا غیر معیاری سامان نہیں خریدیں گے۔ مگر ایسا نہ کہہ کر انہوں نے جذباتی الفاظ بول کر امریکہ کو بدنام کرنا شروع کیا۔ تا کہ ان کی نا اہلی چھپی رہے، وہ عوام پر ظاہر نہ ہونے پائے۔

ایک پروفیسر نے تعلیم کے مسئلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم صرف کالج یا یونیورسٹی سے ڈگری لینے کا نام نہیں، تعلیم ایک ایسا مسلسل عمل ہے جو آدمی کی آخر عمر تک جاری رہتا ہے: Education is a life-long process. یہ بات نہایت درست ہے۔ کسی تعلیم گاہ کی ڈگری صرف جاب کے لئے ہوتی ہے نہ کہ علم کے لئے۔ علم ایک ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ جس آدمی کے اندر علم کا ذوق پیدا ہو جائے وہ کسی مقام پر ٹھہر نہیں سکتا۔ عربی کا یہ مقولہ بالکل درست ہے کہ علم تم کو اپنا جزء اس وقت تک نہیں دیتا جب تک کہ تم اپنا کل اس کو نہ دے دو (العلم لا يعطيك جزءه حتى تعطيه كلك)۔

۱۵ ستمبر کی صبح کو گیسٹ ہاؤس میں اول وقت میں نے فجر کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد باہر نکل کر گیسٹ ہاؤس کے وسیع گارڈن میں ٹہلنے لگا۔ اس وقت گارڈن میں تقریباً سناٹا تھا۔ تاہم ہر طرف ہرے بھرے درخت کھڑے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ یہ درخت ہر طرف اپنی خاموش زبان میں قدرت کے پیغامات نشر کر رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ یہ ہرے بھرے درخت اپنی آس پاس کی دنیا سے کیا کہہ رہے ہیں۔ شاید وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر تم اپنی تعمیر چاہتے ہو تو ہماری طرح خاموش عمل کرو۔ شور اور ہنگامہ کے ذریعہ تخریب تو کی جاسکتی ہے مگر حقیقی تعمیر شور اور ہنگامہ کے ذریعہ ممکن نہیں۔ ۱۵ ستمبر کو آج کا انگریزی روز نامہ ٹری بیون (چندی گڑھ) دیکھا۔ اس کے صفحہ اول پر ایک نمایاں خبر یہ تھی کہ امریکہ کے "صنعتی شہنشاہ‘ ولیم بل گیٹس (William Bill Gates) چند دن

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page