آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، اگست ۲۰۰۱
کے دورے پر ہندوستان آئے ہیں۔ ان کا یہ سفر کس لئے ہوا اس پر غور کیجئے تو ایک اہم حقیقت سامنے آئے گی۔
آزادی (۱۹۴۷) کے بعد ملک کے حکمرانوں نے یہاں، اپنے الفاظ میں مخلوط اقتصادیات (mixed economy) کا نظام قائم کیا۔ یعنی پرائیویٹ سیکٹر، اور پبلک سیکٹر کے نام سے سرکاری سیکٹر۔ نام نہاد پبلک سیکٹر نے ملک کو تباہ کرنے کے سوا کوئی اور کارنامہ انجام نہیں دیا۔ البتہ پرائیویٹ سیکٹر نے مصنوعی پابندیوں کے باوجود، بہت بڑا کام کیا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ پبلک سیکٹر کا کوئی ایسا کارنامہ نہیں جس کو دیکھنے کے لئے ترقی یافتہ ملک کے لوگ ہندوستان آئیں ۔ جب کہ پرائیویٹ سیکٹر نے ایسے کئی نمایاں کام کئے ہیں جن کو دیکھنے اور ان سے معاملہ کرنے کے لئے ترقی یافتہ ملکوں کے لوگ روزانہ یہاں آرہے ہیں۔ انہی میں سے ایک کمپیوٹر یا انفارمیشن ٹکنالوجی ہے۔ جس نے پچھلے برسوں میں نمایاں ترقی حاصل کی ہے۔ یہ ترقی صد فی صد پرائیویٹ سیکٹر کے تحت انجام پائی ہے۔ اسی کو دیکھنے کے لئے امریکہ کے مذکورہ صنعت کار ہندوستان آئے۔
۱۵ ستمبر کو ساڑھے دس بجے یونیورسٹی کے ہال میں تقریر کا انتظام تھا۔ یہاں یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے اساتذہ تھے۔ ان میں کچھ سینئر افراد بھی موجود تھے۔ مثلاً بابا نریندر سنگھ (عمر ۹۲ سال) ان سے میں نے پوچھا کہ آپ اپنا کوئی تجربہ بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا تجر بہ تو یہی ہے کہ آج آپ سے ملاقات ہو گئی۔
میرے خطاب سے پہلے یونیورسٹی کے بعض ذمہ داروں نے تقریریں کیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے درمیان اسلام کے ایک بڑے عالم موجود ہیں۔ ہم ان سے جاننا چاہیں گے کہ اسلام کی تعلیمات کیا ہیں اور انسانیت کے لئے اس کا نظریہ کیا ہے۔ اس کے بعد مجھے موقع دیا گیا۔ میں نے اپنی ۴۵ منٹ کی تقریر میں تفصیل کے ساتھ اسلام کے انسانی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور قرآن وحدیث کے حوالوں سے اس کو واضح کیا۔
تقریر کے بعد سوال وجواب کا وقفہ تھا۔ لوگوں نے کثرت سے سوالات کئے ۔ مردوں نے بھی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues