Al-Risala · August 2001 · page

آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱

اور خواتین نے بھی۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ کے یہاں یہ قانون ہے کہ کوئی غیر مسلم کعبہ میں نہیں جاسکتا۔ اب اگر کوئی شخص اسلام کو سمجھنا چاہتا ہے تو وہ کیسے اسلام کو سمجھے گا۔ میں نے کہا کہ اسلام کو سمجھنے کے لئے مکہ جا کر کعبہ کو دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ ہزاروں مسلمان جو حج کی استطاعت نہیں رکھتے وہ کعبہ کو دیکھے بغیر مرجاتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کو مسلمان ہی مانا جاتا ہے۔ کعبہ نہ دیکھنے کی وجہ سے ان کے اسلام میں کوئی کمی نہیں آتی۔ میں نے کہا کہ اسلام کیا ہے اس کو جاننے کے لئے آپ کو قرآن وحدیث وسیرت رسول کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ یہی چیزیں اسلام کا اصل ماخذ ہیں۔ کعبہ کی زیارت کا تعلق اسلام کو سمجھنے سے نہیں ہے بلکہ اسلام کو مان لینے کے بعد اس کے احکام کی تعمیل سے ہے۔

پھر میں نے کہا کہ کعبہ یا بیت اللہ کے سلسلہ میں ”پابندی“ صرف غیر مسلموں کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ وہ مسلمانوں کے لئے بھی ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ حرم کعبہ میں داخل ہو کر وہاں کسی کو ستائیں یا خون بہائیں۔ حتیٰ کہ کسی جانور کا بھی نہیں۔ اس دو طرفہ حرمت کا سبب کعبہ کو پاک رکھنا ہے۔ مسلمانوں پر یہ پابندی اس لئے ہے تاکہ وہ بیت اللہ کو اپنی سیاست کا اڈہ نہ بنائیں ۔ اور غیر مسلموں پر جو پابندی ہے وہ اس لئے ہے تا کہ وہ اس کو بتوں کا اڈہ نہ بنائیں جیسا کہ ظہور اسلام سے پہلے کیا گیا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ پیغمبر اسلام سے پہلے وہاں یہ پابندی نہ تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بت پرست لوگوں نے اپنے اپنے بت لا کر کعبہ میں رکھنا شروع کر دئے یہاں تک کہ وہ ۳۶۰ بتوں کا مرکز بن گیا۔ موجودہ پابندی اس لئے ہے کہ یہ تاریخ دوبارہ کعبہ میں دہرائی نہ جاسکے۔ یونیورسٹی کا یہ ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ اس میں یونیورسٹی کے علاوہ دوسرے کالجوں کے اساتذہ بھی شریک تھے۔ اسلام کے بارے میں کثرت سے سوالات کئے گئے ۔ میں نے ہر سوال کا جواب معتدل انداز میں دیا۔ لوگ خدا کے فضل سے مطمئن ہو گئے۔ ایک سوال یہ تھا کہ کچھ مسلم ملکوں میں قرآن کا قانون نافذ کیا جا رہا ہے جس کی خبریں میڈیا میں آ رہی ہیں۔ میں نے کہا کہ اس وقت کوئی بھی مسلم ملک ایسا نہیں ہے جہاں واقعی معنوں میں قرآن کے قانون کو نافذ کیا گیا ہو۔ جو کچھ آپ سنتے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page