آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، اگست ۲۰۰۱
ہیں وہ قرآن کے نام پر اپنی پالیٹکس چلانا ہے۔ وہ اسلام کو exploit کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اسلام کے ہنگامے تو بہت سنتے ہیں مگر اسلام کی رحمتیں اور برکتیں کسی مسلم ملک میں دکھائی نہیں دیتیں۔ امرتسر کی گرو نانک یونیورسٹی میں انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے مقامی نمائندہ رچنا سویر سین (553618:Tel) نے ملاقات کی۔ انہوں نے اپنے اخبار کے لئے انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات کا تعلق کچھ مسلمانوں سے تھا اور کچھ ملک سے۔ ایک سوال کے جواب میں، میں نے کہا کہ مسلم کمیونٹی کی تصویر جو آپ کے ذہن میں ہے وہ حقیقی تصویر نہیں ہے، بلکہ اخباری تصویر ہے۔ آپ جیسے لوگ اخباروں میں جو کچھ پڑھتے ہیں اسی سے مسلم کمیونٹی کے بارے میں رائے بناتے ہیں۔ جب کہ اخبارات یا میڈیا کا حال یہ ہے کہ وہ سلیکٹر رپورٹنگ کا ادارہ ہے۔ مزید یہ کہ اپنے مخصوص مزاج کی بناپر میڈیا زیادہ ترمنفی خبروں کو رپورٹ کرتا ہے۔ اور مثبت خبروں کو چھوڑ دیتا ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لئے آپ لوگوں کو اخباری دائرہ سے باہر آنا چاہئے۔ اس کے بغیر آپ لوگ نہ مسلمانوں کے بارے میں درست رائے قائم کر سکتے ہیں اور نہ غیر مسلموں کے بارے میں۔ امرتسر میں بار بار شہر کے اندر جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے دیکھا کہ یہاں کی سڑکیں دوسرے شہروں کے مقابلہ میں نسبتاً بہتر ہیں، چوڑی اور صاف ستھری بھی۔ فٹ پاتھ پر وہ مناظر بھی نہیں تھے جو عام طور پر ہندوستانی شہروں میں ہوتے ہیں۔
یہاں کے ایک صاحب سے میں نے پوچھا کہ پنجاب کے بارے میں میں نے سنا ہے کہ یہاں کے لوگ زیادہ تر ایگریکلچر میں مصروف رہتے ہیں۔ انڈسٹری میں وہ زیادہ آگے نہ بڑھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ یہاں کی زمین اچھی ہے اور زراعت میں انہیں بہت آسانی سے معقول آمدنی ہو جاتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں انڈسٹری کا شعبہ انہیں زیادہ محنت طلب معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے وہ زیادہ تر زراعت ہی میں مشغول رہنا پسند کرتے ہیں۔ پنجاب میں زرخیز زمین کی وجہ سے یہاں کے لوگ زیادہ تر زراعت میں رہ گئے۔ راجستھان میں زرخیز زمین نہ تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں کے لوگوں نے صنعت اور تجارت میں محنت کر کے اعلیٰ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues