Al-Risala · August 2001 · page

آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱

ترقی کی۔ اس دنیا میں ناموافق حالات بھی اپنے اندر عظیم موافق پہلو رکھتے ہیں۔ ۱۵ ستمبر کی شام کو چندی گڑھ کے اخبارٹری بیون کے نمائندہ مسٹر اشوک سیٹھی مقیم امرتسر (223680 :.Tel) نے انٹرویو لیا۔ سوالات کے دوران میں نے کہا کہ فرق اور اختلاف فطرت کا حصہ ہے۔ آپ ان کو ختم نہیں کر سکتے۔ اس لئے فرق و اختلاف کے ساتھ زندہ رہنے کا آرٹ سیکھنا چاہئے نہ کہ فرق و اختلاف کو ختم کر کے یکساں سماج بنانے کی کوشش کی جائے، کیوں کہ وہ ممکن ہی نہیں۔

۱۵ ستمبر کی شام کو امرتسر سے جالندھر کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ سفر شان پنجاب ایکسپریس کے ذریعہ طے ہوا۔ یہ تقریباً ایک گھنٹہ کا سفر تھا۔ ’’شان پنجاب ایکسپریس‘‘ نام کے اعتبار سے بظاہر جتنی شاندار معلوم ہوتی ہے حقیقت کے اعتبار سے وہ اتنی شاندار نہیں۔ اس کی بوگیاں پرانی نظر آئیں ۔ ہندوستان میں چند ٹرینیں تو واقعی اعلیٰ معیار کی نظر آتی ہیں۔ مگر بیشتر ٹرینیں خستہ حالت میں ہیں۔ یہی حال پٹریوں کا بھی ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آئے دن اخباروں میں ٹرین حادثات کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان میں بھی اس قسم کے مسائل کا حل وہی ہے جو مغربی ملکوں میں ہوا ہے۔ یعنی اس قسم کے تمام اداروں کو پرائیویٹ ملکیت میں دے دینا۔ نام نہاد پبلک سیکٹر یا سرکاری سیکٹر ہی ان تمام مسائل کا اصل سبب ہے۔ جواہر لال نہرو اور ان کے ساتھی کرشنا مینن یہ کہا کرتے تھے کہ پبلک سیکٹر کو ہم نے اس لئے قائم کیا ہے کہ سرکاری کنٹرول کے ذریعہ ہم ان کو اعلیٰ کار کردگی کا نمونہ بنائیں تاکہ اس کو دیکھ کر پرائیویٹ سیکٹر بھی اچھی طرح کام کر ے۔ یہ الفاظ گرامر کے لحاظ سے درست تھے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط۔ کیونکہ حسن کار کردگی کا موثر ذریعہ آزادانہ کمپटीशन ہے، نہ کہ سرکاری کنٹرول۔ پبلک سیکٹر میں ذاتی انٹرسٹ کا دباؤ موجود نہیں ہوتا اس لئے پبلک سیکٹر میں بہتر کام بھی نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس پرائیویٹ سیکٹر میں یہ دباؤ مسلسل طور پر موجود رہتا ہے۔ اس لئے یہاں ہر آدمی خود اپنے انٹرسٹ کے تحت مجبور ہوتا ہے کہ وہ بہتر کار کردگی کا نمونہ پیش کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page