آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، اگست ۲۰۰۱
حقیقت یہ ہے کہ پبلک سیکٹر کی اس مفروضہ منطق نے ملک کو اتنا پیچھے کر دیا کہ اب وہ خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل ہی نہ رہا۔ یہاں تک کہ نو آبادیاتی نظام (colonialism) دوبارہ ملک کے اندر داخل ہو گیا۔ پہلے وہ براہِ راست طور پر سیاسی طاقت کے ذریعہ آیا تھا۔ اب وہ بالواسطہ انداز میں اقتصادی طاقت کے ذریعہ ملک میں آرہا ہے۔
۱۵ ستمبر کو مسٹرونے کمار کے ساتھ روانہ ہو کر امرتسر ریلوے اسٹیشن پر پہنچا۔ یہاں شان پنجاب ایکسپریس آچکی تھی اور پلیٹ فارم پر کھڑی ہوئی تھی۔ تاہم سیٹ تلاش کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی اور جلد ہی ہم لوگ گاڑی کے اندر اپنی سیٹ پر پہنچ چکے تھے۔ اس ٹرین سے چل کر مجھے جالندھر پہنچنا تھا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ آپ اسٹیشن سے اتر کر پلیٹ فارم پر ٹھہرے رہیں۔ اسپک میکے کے لوگ وہیں پلیٹ فارم پر آ کر آپ کو لے جائیں گے۔ چنانچہ میں دیر تک پلیٹ فارم پر کھڑا رہا۔ آخر کار جب ٹرین چلی گئی اور پلیٹ فارم مسافروں سے خالی ہو گیا تو میں نے سوچا کہ یہاں سے چل کر گیٹ پر پہنچنا چاہئے۔ گیٹ پر پہنچا تو وہاں اسپک میکے کا بینر لئے ہوئے دو نو جوان میرے انتظار میں موجود تھے۔ یہ دونوں انجینئر نگ کے طالب علم تھے جن میں سے ایک کا نام ابو شیخ تھا اور دوسرے کا نام مسٹر جارج تھا۔ یہ ’’حادثہ‘‘ کیوں پیش آیا۔ اس کا سبب کمیونی کیشن گیپ (communication gap) ہے۔ امرتسر سے ٹیلی فون کرنے والوں نے انہیں بتایا کہ وہ گیٹ پر موجود رہیں، میں گیٹ پر انہیں مل جاؤں گا۔ مگر امرتسر میں جن صاحب نے مجھ کو بتایا انہوں نے مجھ سے یہ کہا کہ جالندھر میں آپ کا استقبال کرنے والے پلیٹ فارم پر موجود رہیں گے، آپ وہیں ٹھہریں۔ پیغام رسانی کے اس فرق نے مسئلہ پیدا کیا۔ اس طرح کے معاملات میں انتہائی محدود الفاظ میں پیغام رسانی ہونی چاہئے تاکہ طرفین کو غیر مشتبہ طور پر طے شدہ بات کا علم ہو۔ مگر میرا تجربہ ہے کہ معاملات میں محدود اور متعین (specific) انداز میں اطلاع دینا بہت کمیاب ہے۔ بیشتر لوگ غیر محدود انداز میں بات کرنے کے عادی ہیں۔ اس لئے بیشتر حالات میں لوگوں کے درمیان مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔
جالندھر ریلوے اسٹیشن سے مسٹر ابو شیخ اور مسٹر جارج کے ساتھ روانہ ہو کر شہر پہنچا۔ یہاں میرا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues