آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، اگست ۲۰۰۱
قيام ڈاکٹر امبیڈکر انجینئرنگ کالج میں تھا۔ یہ کالج اعلیٰ تکنیکل تعلیم کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ اس کا کیمپس ۱۵۳۔ ایکڑ کے رقبہ میں واقع ہے۔ یہ ایک خود کفیل کالج ہے۔ یہاں ہر قسم کی ضرورتیں خود کالج کے کیمپس میں پوری ہو جاتی ہیں۔ میرا قیام اس کالج کے گیسٹ ہاؤس میں تھا۔
مسٹر گورپریت سنگھ ڈاکٹر امبیڈکر کالج میں انجینئرنگ کے لکچرر ہیں۔ وہ میرے کمرے میں آئے اور کہا کہ میں نے زی ٹی وی پر آپ کو دیکھا تھا۔ مجھے آپ کی بات اچھی لگی۔ پھر جب معلوم ہوا کہ آپ ہمارے کالج میں آرہے ہیں تو یہ سن کر بہت خوشی ہوئی۔ آج شام کو یہاں صوفی میوزک کا ایک پروگرام ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کچھ دیر کے لئے اس میں چلیں۔ میں نے معذرت کی مگر پھر ان کے اصرار پر جانے کے لئے تیار ہو گیا۔
یہ پروگرام میرے ذوق کے مطابق نہ تھا۔ مثال کے طور پر یہاں عجیب و غریب طور پر اچھل کود کے انداز میں طلسماتی کہانیاں سنائی جارہی تھیں۔ ایک کہانی یہ تھی کہ دو عورتیں ایک بزرگ کے یہاں آئیں ۔ دونوں کا مسئلہ یہ تھا کہ ان کے یہاں بچہ پیدا نہیں ہوا تھا۔ بزرگ نے دونوں کو ایک ایک کھجور دی اور کہا کہ اس کو نگل کر کھا لینا۔ اس کے بعد ایک عورت کے یہاں بچہ پیدا ہوا اور دوسرے کے یہاں بچہ پیدا نہیں ہوا۔
پھر کچھ عرصہ بعد وہ عورتیں دوبارہ مذکورہ بزرگ کے پاس آئیں ۔ بزرگ نے دیکھا کہ ایک عورت کی گود میں بچہ ہے اور دوسری عورت کی گود میں بچہ نہیں۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ایک عورت نے کھجور کو کھا لیا تھا۔ چنانچہ اس کے یہاں بچہ پیدا ہوا۔ دوسری عورت نے کھجور کو طاق پر رکھ دیا اور اس نے نہیں کھایا۔ بزرگ نے دوسری عورت سے کہا کہ تم نے اس کھجور کو کھجور سمجھ کر طاق پر رکھ دیا۔ وہ دراصل بچہ تھا اب دوبارہ جا کر تم اسے دیکھو۔ اس کے بعد عورت اپنے گھر واپس آئی اور کھجور کو توڑ کر دیکھا تو اس کے اندر واقعۃً ایک بچہ موجود تھا۔
یہ بلاشبہ ایک جھوٹی کہانی ہے۔ مگر اسی قسم کی بے اصل اور بے بنیاد کہانیوں پر بزرگی اور برکت کا وہ کاروبار قائم ہے جو ہندو اور مسلمان دونوں کے یہاں یکساں طور پر موجود ہے۔ ہر مقدس
‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues