Al-Risala · August 2001 · page

آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱

بزرگ ، حتی کہ ہر مقدس جماعت کے گرد بے بنیاد قسم کی کہانیوں کا ایک طلسماتی جال بچھا دیا گیا ہے۔ ان افسانوی داستانوں کو اتنا زیادہ دہرایا جاتا ہے کہ لوگ اس پر یقین کر لیتے ہیں۔ میرے تجربہ کے مطابق ، اس دنیا میں سب سے زیادہ جس چیز کی کمی ہے وہ علمی طرز فکر ہے۔ یہ کمی مذکورہ قسم کے لوگوں کے لئے نہایت زرخیز زمین کی حیثیت رکھتی ہے۔ خواب اور مکاشفات اور کرامات کی ” طلسم ہوش ربا“ اسی غیر علمی ذہن پر قائم ہے۔ اسلام اس توہماتی مذہب کو ختم کرنے کے لئے آیا تھا مگر مسلمانوں نے خود ساختہ اضافوں کے ذریعہ اپنی محبوب شخصیتوں اور اپنی محبوب جماعتوں کے گرد توہمات کی وہ پوری دنیا آباد کر لی جو نہ صرف غیر حقیقی ہے بلکہ وہ اسلام کی اصل اسپرٹ کو ذبح کرنے کے ہم معنی ہے۔

۱۹۴۷ سے پہلے جالندھر میں کافی مسلمان تھے۔ تقسیم کے بعد جالندھر مسلمانوں سے خالی ہو گیا ۔ اب دوبارہ کچھ مسلمان یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں۔ حفیظ جالندھری کا نام کافی مشہور ہے۔ انہوں نے شاہنامہ اسلام لکھی تھی جو ایک زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان بہت مقبول ہوئی۔ میں نے سوچا کہ ” شاہنامہ اسلام“ کی قسم کی کتابیں تو بہت سے مسلمانوں نے لکھیں۔ مسلمانوں کی ہر زبان میں اس قسم کی کتابیں کثرت سے ملتی ہیں مثلاً عربی میں فتوح الشام ، وغیرہ۔ مگر دعوت نامہ اسلام‘‘ شاید کسی بھی مسلمان نے نہیں لکھی۔ نہ اردو میں اور نہ دوسری کسی زبان میں۔ دعوت کے موضوع پر واحد قابل ذکر کتاب ایک برطانی اسکالر پروفیسر ٹامس آرنلڈ (Thomas Arnold) کی ہے۔ ساڑھے چار سو صفحہ کی اس کتاب کا نام پر بیچنگ آف اسلام (The Preaching of Islam) ہے۔ وہ پہلی بار لندن سے ۱۸۹۶ میں شائع ہوئی تھی۔

اس کتاب کو حال میں نئی دہلی کے ایک پبلشنگ ادارہ گڈ ورڈ بکس (Goodword Books) نے زیادہ بہتر گٹ اپ (get up) کے ساتھ چھاپا ہے۔ اس کتاب کا موجودہ نام یہ ہے: The Spread of Islam in the World آج کا ٹائمس آف انڈیا (۱۲ ستمبر (۲۰۰۰) دیکھا۔ اس کے صفحہ اول پر واشنگٹن کی ڈیٹ لائن

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page