آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، اگست ۲۰۰۱
کے ساتھ دلیپ ووکر کی لکھی ہوئی ایک رپورٹ چھپی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ واشنگٹن میں اٹل بہاری واجپئی کی موجودگی میں امریکی صدر کلنٹن نے ایک تقریر کی ۔ انہوں نے انڈیا کو ایک ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انفارمیشن ٹکنالوجی میں حیرت ناک ترقی کر رہا ہے: He saluted India as a ‘‘rising economic leader, making breath-taking strides in information technology. اس کو پڑھتے ہوئے میں نے سوچا کہ ہندوستان کو اس ’’حیرت ناک ترقی‘‘ تک کس نے پہنچایا۔ یقینی طور پر اس ملکی حکومت نے نہیں جو بے شمار قربانیوں کے بعد1947 میں قائم ہوئی تھی۔ اس حکومت نے تو سوشلزم کے نام پر وہ چیز قائم کی جس کو راج گوپال اچاری لائسنس پرمٹ راج کہا کرتے تھے۔ لائسنس اور پرمٹ نظام نے ملک کی اقتصادیات کو صرف تباہ کرنے کا کام کیا ہے۔ ملک کی یہ خوش قسمتی تھی کہ نام نہاد پبلک سیکٹر کے ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی زندہ رہنے کا موقع مل گیا۔ یہی پرائیویٹ سیکٹر ہے جس نے ملک کو اس ترقی سے ہم کنار کیا۔ ورنہ جہاں تک نام نہاد پبلک سیکٹر کا تعلق ہے اس نے تو ۵۰ سال کے دوران صرف دو منفی کارنامے انجام دئے ہیں۔ پہلے تو ملک کی دولت کو سمیٹ کر غیر نفع بخش کاموں میں انوسٹمنٹ (investment)، اور پھر اس غیر نفع بخش سرمایہ کاری کا ڈس انوسٹمنٹ (disinvestment)۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کسی چیز سے سبق لینے میں سب سے بڑی چیز جور کاوٹ بنتی ہے وہ یہ کہ آدمی کے اندر سبق لینے کا ذہن موجود نہ ہو۔ دنیا میں بے شمار چیزیں موجود ہیں جو اپنے ساتھ نصیحت اور سبق کا دفتر لئے ہوئے ہیں۔ مگر آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہیں یا تو وقتی تفریح سے دلچسپی ہے یا مادی انٹرسٹ سے۔ کسی کے اندر یہ جذبہ ہی نہیں کہ وہ چیزوں سے سبق لے ۔ جب لوگوں کا مزاج ایسا ہو تو اس کے بعد یہی ہوگا کہ نصیحت اور سبق کے ہجوم میں بھی وہ نصیحت اور سبق لینے سے محروم رہیں گے ۔
۱۶ ستمبر کو میں جالندھر میں تھا۔ صبح کو اول وقت فجر کی نماز پڑھنے کے بعد گیسٹ ہاؤس کے باہر نکلا۔ اور اس کے وسیع لان میں ٹہلنے لگا۔ صبح کا سہانا سماں تھا۔ لان کی گھاس سبز فرش کی مانند دکھائی دے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues