آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، اگست ۲۰۰۱
رہی تھی۔ جگہ جگہ ہرے درخت کھڑے ہوئے تھے اسی کے ساتھ چڑیوں کی آوازیں اور کھلا ماحول، ان چیزوں نے پورے ماحول کو پر تاثیر بنا دیا تھا۔ اس قسم کا قدرتی ماحول میرے لئے ہمیشہ ربانی انسپریشن (inspiration) کا ذریعہ ہوتا ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھلے ماحول میں گھاس کے اوپر نماز پڑھنا پسند فرماتے تھے۔ اس کے علاوہ اور بھی متعدد آیتیں اور حدیثیں ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ روحانی انسپریشن کا سب سے بڑا ذریعہ خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت ہے۔ یہ فطرت خدا کی صفات کمال کا تعارف کراتی ہے۔ اگر آدمی کے اندر اخذ کا مادہ بیدار ہو چکا ہو تو فطرت کی پوری دنیا آدمی کے لئے ربانی تربیت کا ذریعہ بن جائے گی۔
ایک تعلیم یافتہ سکھ سے ملاقات ہوئی۔ وہ سکھ دھرم کو سب سے اونچا دھرم سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سکھ دھرم میں جو کھلا پن ہے وہ کسی اور دھرم میں نہیں۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام کو دیکھئے ۔ وہاں یہ حال ہے کہ کوئی نان مسلم کعبہ کی مسجد میں داخل نہیں ہو سکتا۔ وہاں صرف مسلمان ہی جا سکتا ہے۔ جب کہ سکھوں کا سب سے مقدس استھان دربار صاحب (امرتسر) ۲۴ گھنٹہ ہر ایک کے لئے کھلا رہتا ہے۔ وہاں کسی کے جانے پر کوئی پابندی نہیں۔ ہر مذہب کا آدمی ہر وقت وہاں جا سکتا ہے۔
میں نے کہا کہ کسی مذہب کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لئے یہ کوئی صحیح معیار نہیں کہ یہ دیکھا جائے کہ وہاں کتنا کھلا پن ہے اور کتنا کھلا پن نہیں۔ کسی لبرل ادارے میں آپ جائیں تو وہاں اور بھی زیادہ کھلا پن نظر آئے گا حالانکہ وہ لوگ مذہب کو مانتے ہی نہیں۔ مذاہب کے تقابلی مطالعہ میں دیکھنے کی اصل چیز یہ ہے کہ اس کی تعلیمات کتنی زیادہ مبنی بر صداقت ہیں۔ اس سے وابستہ شخصیتیں تاریخی ہیں یا غیر تاریخی۔ اس کی مقدس کتاب میں تحریفات ہوئی ہیں یا ابھی تک وہ غیر محرف حالت میں باقی ہے۔ اس کی تعلیمات علمی جانچ (scientific scrutiny) پر پوری اترتی ہیں یا نہیں۔ زندگی کے مختلف معاملات میں اس کے پاس رہنمائی کی کیا اسکیم ہے۔ انسان کی مجموعی ترقی کے لئے اس کی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues