آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، اگست ۲۰۰۱
تعلیمات کس حد تک کارآمد ہیں۔ وہ انسان کے ذہنی اور عقلی ارتقاء کا ساتھ دیتا ہے یا نہیں۔ اس کا جو ابتدائی ماخذ (source) ہے وہ کس حد تک قابل اعتبار (credible) ہے۔
ایک پروفیسر صاحب نے کہا کہ میں نے آپ کی تحریریں پڑھی ہیں آپ اسلام کو ایک پرامن مذہب کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر عام طور پر اس کی جو تصویر ہے اس کے مطابق ، تو اسلام ایک تشدد کا مذہب ہے۔ کیوں کہ اسلام میں سب سے بڑی عبادت جہاد بتائی گئی ہے۔ ایسی حالت میں آپ اسلام کو امن کا مذہب کیسے کہتے ہیں۔
میں نے کہا کہ اس قسم کی باتیں صرف غلط فہمی پر مبنی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے ۲۳ سال میں اترا۔ اس ۲۳ سالہ مدت کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اس کا ایک حصہ تقریباً ۲۰ سال کی مدت تک پھیلا ہوا ہے اور اس کا دوسرا حصہ تقریباً ۳ سال پر مشتمل ہے۔ ۲۰ سال وہ ہیں جب کہ وہاں معتدل حالات تھے۔ اس مدت میں قرآن کی عمومی تعلیمات اتریں۔ یہ سب کی سب براہ راست یا بالواسطہ طور پر امن کے اصول سے تعلق رکھتی ہیں۔
تین سالہ دور وہ ہے جب کہ مسلمانوں پر متشددانہ حملہ کیا گیا۔ اور مسلم معاشرہ میں جنگ کی حالت (state of war) قائم ہوگئی۔ اس زمانہ میں جو احکام اترے وہ ایسے احکام تھے جو ہنگامی حالات میں دئے جاتے ہیں۔ اس طرح کے ہنگامی حالات میں ہر مذہب اور ہر سوسائٹی کو وہ احکام دئے جاتے ہیں جو دفاع کی وقتی ضرورت پر مبنی ہوتے ہیں۔ جو لوگ اسلام کو تشدد کا مذہب ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ یہ کرتے ہیں کہ ۳ سال کی ہنگامی مدت میں قرآن کی جو آیتیں اتریں ان کو ان کے سیاق (context) سے ہٹا کر انہی کو قرآن کی اصل تعلیمات قرار دے دیتے ہیں۔ یہ گویا استثناء (exception) کی تعمیم (generalisation) ہے، جو کسی بھی سسٹم کو سمجھنے کے لئے درست اور منصفانہ طریقہ نہیں۔
ایک صاحب نے کہا کہ مسلمان اپنے سوا دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں اور اس کا سبب خود اسلام کی تعلیمات ہیں۔ قرآن کے مطابق، مسلمانوں کے سوا جو لوگ ہیں وہ سب
‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues