Al-Risala · August 2001 · page

آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱

کے سب کافر ہیں۔ مسلمان ان کو کافر کہتے ہیں۔ اس قسم کے عقیدہ کا نتیجہ یہی ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کو دوسروں کے بارے میں نفرت اور حقارت پیدا ہو جائے۔

میں نے کہا کہ کافر کا یہ مطلب نہیں۔ کافر کا لفظی مطلب ہے انکار کرنے والا۔ اور یہ مسلمان کا کلمہ نہیں ہے بلکہ یہ خدا کا کلمہ ہے۔ قرآن میں جہاں بھی کافر کا لفظ آیا ہے وہ خدا کی طرف سے ہے نہ کہ مسلمانوں کی طرف سے۔ "ایھا الکافرون‘‘ خدا کا قول ہے۔ خود پیغمبر نے کبھی ایھا الکافرون کے لفظ سے خطاب نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اے لوگو، اے میری قوم، اے انسانو، جیسے الفاظ سے خطاب کیا۔ کسی مسلمان کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کو کافر کہے یا اس کے کافر ہونے کا اعلان کرے۔ یہ بہت بڑی جسارت ہے اور اپنی حد سے تجاوز کرنا ہے۔ یہ تمام تر خدا کا کام ہے کہ وہ اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر کسی کو کافر (منکر) قرار دے۔ کسی کے کافر (منکر) ہونے کا تعلق دو چیزوں سے ہے۔ ایک یہ کہ اس پر اتمام حجت کیا جا چکا ہو۔ اور دوسرے یہ کہ وہ فی الواقع سمجھ بوجھ کر انکار کی روش پر قائم رہے۔ ان دونوں باتوں کا حقیقی علم صرف خدا کو ہے۔ اس لئے صرف خدا ہی کو یہ حق ہے کہ وہ کسی کو کافر قرار دے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی کے بارے میں یہ اعلان کرنا کہ وہ کافر ہے یہ خدا کے خصوصی اختیار کی بات ہے۔ کوئی مسلمان اگر ایسا کرے تو ایک حدیث کے مطابق، یہ اندیشہ ہے کہ وہ خود اس چیز کا مجرم بن جائے جس کا الزام وہ دوسروں کو دے رہا تھا۔

کون شخص حقیقت کے اعتبار سے کیا ہے، اس کا اعلان کرنے کا حق صرف خدا کو ہے۔ مسلمان کی ذمہ داری آخر وقت تک صرف یہ ہے کہ وہ دعوتی عمل کے ذریعہ خدا کے پیغام کو لوگوں تک پہنچائے۔ اس کے بعد لوگوں کے انجام کا فیصلہ کرنا صرف خدا کی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی دوسرے شخص کو اس کا حق حاصل نہیں۔ اس معاملہ میں اگر کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کے بارے میں کافر ہونے کا اعلان کرے تو گویا کہ یہ خدا کی عمل داری (Jurisdiction) میں داخل ہونا ہے۔ جو بذات خود ایک سنگین جرم ہے۔ خدا سے ڈرنے والا کوئی انسان اس کی جرات نہیں کر سکتا۔

ایک تعلیم یافتہ سردار نے کہا کہ اسلام میں عورت کو مرد کے مقابلہ میں دوسرے درجہ پر رکھا گیا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page