Al-Risala · August 2001 · page

آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱

ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالتی گواہی کے معاملہ میں قرآن میں بتایا گیا ہے کہ دو عورت کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے (البقرہ ۲۸۲)۔

میں نے کہا کہ یہ کمتر درجہ (degradation) کی بات نہیں ہے بلکہ ایک فطری حقیقت کا لحاظ کرنے کی بات ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی بوجھ اٹھانا ہو تو یہ کہا جائے کہ جوان آدمی ہو تو ایک ہی آدمی اس کو اٹھانے کے لئے کافی ہے اور اگر بوڑھا آدمی ہو تو دو آدمی اس کو اٹھانے کے لئے درکار ہوں گے۔ یہی معاملہ مذکورہ قانون کا ہے۔ طب اور حیاتیات اور نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ عورت اور مرد کی بناوٹ میں بے حد بنیادی فرق ہے۔ مرد عام طور پر سال بھر یکساں حالت میں رہتا ہے۔ جب کہ عورت پر مختلف فطری اسباب سے داخلی تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ جس کی وجہ سے اس کی یادداشت متاثر ہوتی ہے۔ اس کے اندر جھنجھلاہٹ آ جاتی ہے۔ اکثر وہ جذباتی ہو جاتی ہے۔ کسی واقعہ کو ترکز (concentration) کے ساتھ دیکھنا اس کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔

اسی کے ساتھ یہ بھی عورت کے مزاج کے خلاف ہے کہ وہ کامل خاموشی کے ساتھ کسی خارجی واقعہ کا معائنہ کرے۔ اس قسم کے فطری فروق (differances) کی بنا پر ایسا کیا گیا کہ گواہی کے لئے ایک مرد کی جگہ دو عورت کو مقرر کیا گیا تاکہ، خود قرآن کے الفاظ میں، ایک عورت کے بیان میں کچھ کمی ہو تو دوسری عورت اس کی تلافی کردے۔ (البقرہ ۲۸۲)

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہمارے علماء عام طور پر تنقید اور اختلاف کو پسند نہیں کرتے۔ چنانچہ ہمارے تمام دینی اداروں میں تنقید کو ایک امر ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات علماء اور طلبہ دونوں کے لئے سخت مضر ہے۔ کیوں کہ اس کی وجہ سے ذہنی ترقی کا عمل (process) رک جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ ۱۵ ستمبر ۲۰۰۰ کو گرو نانک یونیورسٹی کے اجتماع میں میرا سامنا (encounter) اساتذہ اور تعلیم یافتہ لوگوں سے ہوا جو تقریبأ سب کے سب غیر مسلم تھے۔ میری تقریر کے بعد ان لوگوں نے’’بوچھاڑ‘‘ کے انداز میں اسلام پر اپنے اعتراضات پیش کرنا شروع کردئے۔ یہ میرے لئے ایک غیر متوقع صورت حال تھی۔ کوئی عام آدمی اس کو دیکھ کر یہ کہتا کہ دیکھو یہ لوگ اسلام کے خلاف اپنے دل

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page