آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، اگست ۲۰۰۱
کا بخار نکال رہے ہیں۔ مگر میرا مزاج خدا کے فضل سے اس قسم کا نہیں ہے۔
میں ہر سوال کو خالص علمی سوال کے طور پر لیتا ہوں ، اس کو نیت کا مسئلہ نہیں بناتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان تیز وتند سوالات نے خود میرے ذہن کو کھول دیا۔ اسلام کے خلاف اعتراضات کی زیادہ معقول اور مؤثر وضاحت میری سمجھ میں آگئی۔ چنانچہ پروگرام کے بعد مختلف حاضرین نے کہا کہ آپ کے جوابات سے بہت سی نئی باتیں معلوم ہوئیں اور اسلام کے بارے میں ہماری غلط فہمیاں دور ہوئیں ۔
پنجاب کے سفر میں ایک بات یہ سمجھ میں آئی کہ مذاہب میں بعد کے زمانہ میں بگاڑ کس طرح آتا ہے۔ سکھ دھرم تقریباً ۵۰۰ سال پہلے وجود میں آیا۔ اس کے بانی گرو نانک تھے۔ اس کے بعد ان کے درمیان کئی گرو پیدا ہوئے ۔ ان کے آخری گرو گوبند سنگھ تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب میرے بعد کوئی گرو نہیں ہوگا۔ آئندہ کے لئے انہوں نے کہا کہ سب سکھن کو حکم ہے گرو مانیو گرنتھ۔ دسویں گرو کے اس قول کا مطلب بظاہر یہ تھا کہ آئندہ تمہیں کسی کو گرو نہیں ماننا ہے بلکہ اسی کتاب (گرنتھ) سے اپنے لئے رہنمائی حاصل کرنا ہے۔ اس کو پڑھتے رہو اور اس کی باتوں پر عمل کرتے رہو۔ مگر بعد کو کچھ لوگوں نے دسویں گرو کے الفاظ کی خود ساختہ تشریح کر کے اس کو یہ معنی دے دیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ گرو گرنتھ صاحب کی حیثیت ہی اب ہمارے لئے زندہ گرو کی ہے۔ اس خود ساختہ تشریح سے زندہ گرو (living guru) کا تصور پیدا ہوا۔ حتیٰ کہ کتاب (گرنتھ) کے ساتھ وہ رسوم ادا کی جانے لگیں جو ایک زندہ شخصیت کے ساتھ کی جاتی ہیں۔ مثلاً پنکھا جھلنا، پالکی میں یہاں سے وہاں لے جانا، وغیرہ۔
اسی قسم کی صورتیں ہر مذہب میں پیش آئیں ، حتیٰ کہ خود اسلام میں بھی۔ مگر اسلام کے متن کو اللہ نے کامل طور پر محفوظ کر دیا ہے۔ اس لئے بعد کے زمانہ میں کسی کے لئے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ خود متن میں کوئی تحریف کرے، البتہ تشریح میں بار بار اس قسم کی جسارت کی گئی۔
مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے کچھ پہلے فرمایا تھا کہ ترکت فیکم
‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues